مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 291 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 291

291 اس مقصد کے لئے آئین میں ترمیم کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔قرار داد اور تحریک کی منظوری کے وقت وزیر اعظم بھٹو بھی ایوان میں موجو د رہے۔قرار داد اور تحریک، ایوان کی رائے کے مطابق تمام ممبروں پر مشتمل ایک خاص کمیٹی کے سپر د کر دی گئی۔اس کمیٹی کے اجلاس کے لئے چالیس ممبروں کا کورم ضروری قرار دیا گیا۔ان میں دس ارکان حکومت کی مخالف جماعتوں سے ہوں گے۔“ سرکاری تحریک کا متن ” یہ ایوان سارے ایوان پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی قائم کرتا ہے۔۔۔۔جس کے چیئر مین اس ایوان کے سپیکر ہوں گے اور یہ خصوصی کمیٹی حسب ذیل فرائض سر انجام دے گی۔(1) ان لوگوں کی حیثیت متعین کی جائے جو آنحضور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتے۔“1 ان الفاظ سے یہ حقیقت پورے طور پر بے نقاب ہو کر سامنے آجاتی ہے کہ بھٹو حکومت اور اپوزیشن ممبر دونوں ہی کمیٹی کی تشکیل سے قبل احمدیوں کو منکر ختم نبوت سمجھتے تھے۔اور اس خصوصی کمیٹی کا مقصد احمدیوں کو سزا دینے کے لئے قانونی جواز کا سہارا ڈھونڈنے کے سوا کچھ نہیں تھا۔بالفاظ دیگر حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی جماعت احمدیہ کی مخالفت میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی فکر میں تھے اور دونوں ہی متحد ہو کر اپنے اپنے سیاسی مفادات کی جنگ لڑ رہے تھے۔یہی اور صرف یہی وجہ ہے کہ رہبر کمیٹی نے حضرت امام جماعت احمدیہ سید نا خلیفہ المسیح الثالث سے بہت سے سیاسی اور معاشرتی سوالات کئے مگر ختم نبوت کی حقیقت کے متعلق ایک سوال بھی نہیں پوچھا! جنگ زرگری اس صور تحال کی وضاحت حضرت امام شمس الدین ابن الجوزی بغدادی رحمتہ اللہ علیہ (متوفی 1200 ء) کے بیان کردہ ایک دلچسپ واقعہ سے خوب ہو جاتی ہے۔علامہ یکتائے روز گار، کثیر التصانیف اور علم حدیث کے ماہرین میں شمار ہوتے تھے۔آپ نے اپنی تصنیف ”کتاب الاذ کیا“ میں علی بن محسن سے روایت کی ہے کہ ان کے والد نے بتایا کہ ہمیں بغداد کے بہت سے اکابر سے معلوم ہوا کہ بغداد کے پل کی دوسری جانب دونا بینا گداگر تھے۔ان میں سے ایک تو امیر المومنین سیدنا علی کے نام کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہے اور دوسر ا حضرت معاویہ کے نام پر بھیک مانگتا ہے۔بہت لوگ ان کے