مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 281
281 پچیسویں فصل پاکستان کا پہلا متفقہ آئین بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے فروری 1948ء کے ایک نشری پیغام میں جو آپ نے امریکی عوام کے نام دیا دنیا بھر کے سامنے آئین پاکستان کا بھی تصور پیش کر دیا۔چنانچہ فرمایا :- ”پاکستان آئین ساز اسمبلی نے ابھی پاکستان کا آئین مرتب کرنا ہے۔میں نہیں جانتا کہ اس آئین کی آخر کار شکل کیا ہو گی لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ جمہوری طرز کا آئین ہو گا۔جس میں اسلام کے بنیادی اصول متشکل ہوں گے۔یہ اصول آج بھی اسی طرح عملی زندگی میں قابل عمل ہیں، جس طرح تیرہ سوسال پہلے تھے۔اسلام اور اس کی مثالیت نے ہمیں جمہوریت کا درس دیا ہے۔اس نے انسانی مساوات، عدل اور ہر شخص سے منہ سے منصفانہ برتاؤ سکھایا ہے۔ہم ان درخشاں روایات کے وارث ہیں اور پاکستان کا آئندہ آئین بنانے والے کی حیثیت میں ہمیں اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کا پورا احساس ہے۔بہر حال پاکستان ایک ایسی مذہبی مملکت نہیں ہو گا جس میں مذہبی پیشوا مامور من اللہ کے طور پر حکومت کریں گے۔ہمارے ہاں بہت سے غیر مسلم ہیں ہندو، عیسائی اور پارسی۔لیکن وہ سب پاکستانی ہیں۔وہ بھی تمام دوسرے شہریوں کی طرح یکساں حقوق اور مراعات سے بہرہ ور ہوں گے اور پاکستان کے معاملات میں 1" کما حقہ کردار ادا کریں گے۔“1 دستور 1956ء کا عوامی خیر مقدم چودھری محمد علی صاحب وزیر اعظم پاکستان کا یہ عظیم کارنامہ ہے کہ انہوں نے قائد اعظم کے دست وبازو ہونے کی حیثیت سے آپ ہی کے فرمودات کی روشنی میں پہلا متفقہ آئین دیا۔جس کے نتیجہ میں پاکستان ”جمہوریہ اسلامیہ “ بن گئی اور صدر ریاست نو آبادیاتی کے گورنر جنرل کی بجائے صدر پاکستان قرار پائے۔اسلامی جمہوریہ کا دستور ایک تاریخی دستاویز تھی جسے قائد اعظم کے پاکستان نے دستور ساز اسمبلی میں اپنے نمائندوں کے ذریعہ 29 فروری 1956ء بمطابق 17 رجب 1375ھ کو اختیار کیا۔اسے قانونی حیثیت دی اور اپنا دستور گردانا اور جو 23 مارچ 1956ء کو ملک کے دونوں