مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 279 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 279

279 قیادت میں ایک مرکزی حکومت قائم کریں اور پاکستان کو ایک کمیونسٹ مملکت بنا دیں۔“2 فاضل جج صاحبان تحقیقاتی عدالت (فسادات پنجاب 1953ء) تحریر فرماتے ہیں۔احرار کے رویے کے متعلق ہم نرم الفاظ استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔ان کا طرز عمل بطور خاص مکر وہ اور قابل نفرین تھا۔اس لئے کہ انہوں نے ایک دنیاوی مقصد کے لئے ایک مذہبی مسئلے کو استعمال کر کے اس مسئلے کی توہین کی اور اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کے لئے عوام کے مذہبی جذبات و حیات سے فائدہ اٹھایا۔اس بات پر صرف احرار ہی یقین رکھ سکتے ہیں کہ وہ اپنے اعمال میں مخلص تھے کیونکہ ان کی گزشتہ تاریخ اس قدر واضح طور پر غیر مستقل رہی ہے کہ کوئی احمق ہی ان کے دعوائے مذیت سے دھوکا کھا سکتا ہے۔خواجہ ناظم الدین نے ان کو دشمنان پاکستان قرار دیا اور وہ اپنی گزشتہ سر گرمیوں کی وجہ سے اسی لقب کے مستحق تھے۔ان کے بعد کے رویے سے یہ واضح ہو گیا کہ نئی مملکت کے وجود میں آنے کے بعد وہ اس کے مخالف ثابت ہوئے۔جو پارٹی پاکستان اور مسلم لیگ اور اس کے تمام لیڈروں کی مخالف اور کانگرس کی محض ایک کنیز تھی، اس کے لئے یہ کیونکر ممکن تھا کہ وہ اپنے گزشتہ نظریات کو ترک کر دیتی اور قیام پاکستان پر جو اس کی مخالفانہ کوششوں کے باوجو د وجو د میں آگیا تھا، راتوں رات اپنے عقائد کو بدل کر اس مملکت میں اسلام کی واحد اجارہ دار بن بیٹھی جس کے قیام کے خلاف اس نے ایڑی سے چوٹی تک کا زور لگا دیا تھا۔کیا احرار پر اپنے نصب العین کا انکشاف تقسیم کے بعد ہی ہو اتھا؟ پاکستان کے لئے اسلامی مملکت کا جو نعرہ وہ لگا رہے تھے۔وہ اس وقت کہاں تھے جب وہ ان جماعتوں اور ان لوگوں کے خلاف برسر پیکار تھے جو مسلمانوں کے لئے صرف ایک وطن کا مطالبہ کر رہے تھے۔۔۔۔پاکستان میں احرار کا ساماضی رکھنے والی جماعت بھی اگر ایک بظاہر معقول مذہبی شاخسانہ کھڑا کر دے تو وہ حکومت کا تختہ الٹ سکتی ہے۔“ ختم پاکستان کے منصوبہ کی تکمیل کے لئے نئی جد وجہد 3" احرار لیڈروں کی اکثریت 1953 ء کی ایجی ٹیشن سے قبل ہی عوامی لیگ میں شامل ہو چکی تھی اور اینٹی پاکستان تخریبی سرگرمیوں میں مصروف تھی۔اب 1953ء کی ایجی ٹیشن میں ملک کے استحکام