مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 278
278 چوبیسویں فصل احرار لیڈر کی پنڈت نہرو سے خفیہ ملاقات سے فسادات پنجاب 1953ء تک بر صغیر کے نڈر صحافی دیوان سنگھ مفتون نے اپنے اخبار ریاست دہلی کے 10 دسمبر 1956ء کے شمارہ میں یہ بیان شائع کیا کہ :- ”مسٹر جناح کے انتقال کے بعد پاکستان کے ایک بہت بڑی پوزیشن کے ذمہ دار احراری لیڈر دہلی آئے اور یہاں پنڈت جواہر لال نہرو سے ملے۔ان احرار لیڈر نے پنڈت نہرو سے کہا کہ پاکستان کے مسلمان اب ملک کی تقسیم کی غلطی کو محسوس کرتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کو ہندوستان میں مدغم کر دیا جائے تاکہ پاکستان اور ہندوستان کے مسلمان تباہ نہ ہوں اور اگر پنڈت نہر و جماعت احرار اور دوسرے اس خیال کے حلقوں کی امداد کے لئے تیار ہوں تو پاکستان کو ہندوستان میں مدغم کیا جاسکتا ہے۔“ اس خفیہ ملاقات کے بعد جماعت احمدیہ کے خلاف احراری پر اپیگینڈ ایکا یک تیز ہو گیا جسے دیکھ کر دہلی کے مشہور مذہبی راہ نما جناب خواجہ حسن نظامی نے واضح طور پر اپنے ایک بیان میں کہا:۔قادیانیوں کے خلاف تقریر کرنے والے بھارت کے ایجنٹ اور ہندو کے تنخواہ دار ہیں۔1" احرار کی لیڈروں نے قیام پاکستان کے بعد 1953ء میں مطالبہ اقلیت کے نام پر جس طرح احمدیوں اور پاکستان دونوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے فسادات برپا کئے ، اس کی تفصیلات میں فاضل جج صاحبان نے اپنی رپورٹ تحقیقاتی عدالت برائے تحقیقات فسادات پنجاب 1953ء میں احراری تاریخ پر بلیغ روشنی ڈالی ہے۔یہی نہیں بلکہ چوہدری فضل الہی صاحب کا (جو 7 ستمبر 1974ء کی قرار داد اسمبلی کے وقت پاکستان کے صدر مملکت تھے ) یہ انکشاف درج کر کے احراری مطالبہ کے حقیقی عالمی پس منظر کا مشاہداتی ثبوت فراہم کر دیا ہے۔فاضل جج صاحبان فرماتے ہیں :- ”مسٹر فضل الہی نے تو ایک وقت پر یہ اشارہ بھی کیا تھا کہ مسٹر دولتانہ کی اس سیاست بازی کا مقصد صرف داخلی نہ تھا بلکہ بین الا قوامی سیاسیات سے بھی متعلق تھا۔ان کا مقصد یہ تھا کہ خواجہ ناظم الدین کو اقتدار کی کرسی سے اتار پھینکیں، خود اپنی