مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 267 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 267

267 يَهِيمُونَ - وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ۔(الشعراء:226-227) یعنی شاعر لوگ قافیہ اور ردیف کے پیچھے ہر یک جنگل میں بھٹکتے پھرتے ہیں یعنی وہ کسی حقانی صداقت کے پابند نہیں رہتے اور جو کچھ کہتے ہیں ، وہ کرتے نہیں۔اقبال نے کھلے بندوں عملاً تسلیم کیا کہ وہ اس نظریہ قرآن کے چلتے پھرتے پیکر ہیں ان کے قول اور عمل میں واضح تضاد ہے۔جس کی تلقین دوسروں کو کرتے ہیں خود اس پر کبھی عمل پیرا نہیں ہوتے چنانچہ خود فرماتے ہیں۔اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے گفتار کا غازی تو بنا کردار کا غازی بن نہ سکا جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمین سے آنے لگی صدا ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں (بانگ درا) اس ” اقبال جرم “ کی تفصیل بھی عبرت ناک ہے جو اقبال صاحب ہی کے فصیح و بلیغ اسلوب میں ہی حیطہ تحریر میں لائی جاسکتی ہے۔”علامہ“ اپنی زندگی کے شام و سحر کا حاصل ان فخر یہ الفاظ میں بیان فرماتے ہیں: میں نے اقبال سے ازراہ نصیحت یہ کہا عامل روزه ہے تو، اور نہ پابندِ نماز تو بھی شیوه ارباب ریا میں کامل ہے دل میں لندن کی ہوس، لب یہ ترے ذکر حجاز جھوٹ بھی مصلحت آمیز ترا ہوتا ہے تیرا انداز تملق بھی سراپا اعجاز ختم تقریر تری مدحتِ سرکار پہ ہے فکر روشن ہے ترا موجد آئین نیاز