مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 252
252 طہراں ہواگر عالم مشرق کا جنیوا شاید کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے جناب بہاء اللہ نے جس سلطان عادل کے ظہور کا وعدہ فرمایا ہے، اقبال اس کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں: می رسد مردی که زنجیر غلامی بشکند دیده ام از روزن دیوار زندان شما 48 جناب ڈاکٹر صابر آفاقی صاحب نے اپنے تحقیقی مقالہ کے اضافہ شدہ دوسرے ایڈیشن میں۔محفوظ الحق علمی صاحب (بہائی لیڈر) کا حسب ذیل بیان بھی شائع کیا: 1932ء میں بہائی میگزین لاہور سے نکلتا تھا اور کشمیر بلڈنگ میں دفتر تھا جواس وقت لاہور ہوٹل ہے۔ڈاکٹر اقبال مرحوم میکلوڈ روڈ پر رہتے تھے اور مولانا ظفر علی صاحب اپنے دفتر اخبار ”زمیندار“ میں تشریف رکھتے تھے۔تمام سال میں کافی مرتبہ ڈاکٹر اقبال مرحوم کے پاس جانا ہوا۔ادھر سے مولانا ظفر علی خان صاحب آجاتے تھے اور کشمیر بلڈنگ سے ہم دونوں ساتھ جاتے تھے اور ساتھ ہی واپس آجاتے تھے۔اس مجلس میں اکثر امر بہائی پر بھی علمی گفتگو ہوتی تھی۔ڈاکٹر اقبال مرحوم عموماً امری باتوں کی تائید کرتے تھے۔ایک مر تبہ ڈاکٹر اقبال مرحوم نے بڑے پر زور لہجے میں کہا کہ میں سید باب کو شارع اعظم سمجھتا ہوں۔اس قسم کی باتیں وہ اکثر فرمایا کرتے تھے۔اس مجلس میں ایک دن مولانا ظفر علی خان صاحب نے مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ: "علمی صاحب! آج ختم نبوت کے بارے میں بہائی نقطہ نظر کی وضاحت کیجئے۔“ میں نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ ”قانون قدرت کے مطابق ہر چیز جس کی ابتداء ہے، اس کی انتہا بھی ہے، دور نبوت کا آغاز آدم سے ہوا اور حضرت خاتم صلی کم پر ختم ہو گیا۔لیکن قانون ارتقاء کے مطابق ایک عظیم دور کا آغاز ہوا۔اس کی خبر دورِ نبوت بڑی شان سے دیتا رہا تھا۔اس دور کو قرآن مجید میں ”اجل اللہ “ اور ”اليوم الموعود " کہا گیا ہے۔یہ ایک بین الا قوامی دور ہے۔توحید الہی کے زیر سایہ عالم انسانی کی وحدت پورے طور پر قائم ہو گی۔اس دور کی بشارت