مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 248
248 علامہ اقبال نے ڈاکٹریٹ کا مقالہ فلسفہ ایران پر قلم بند کیا تھا جس کا اردو ترجمہ ”فلسفہ عجم “ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔اس مقالہ کے لئے انہوں نے براؤن کولیکشن سے استفادہ کیا۔جہاں بابی تحریک پر کافی لٹریچر موجود ہے۔علامہ اقبال نے اس مقالہ میں باب، بہاء اللہ اور ان کی تعلیمات کی تعریف کی ہے۔این میری شمل لکھتی ہیں۔” اس مقالہ کا آخری حصہ اس تجزیہ پر مشتمل ہے جو اس نے مسٹر فلیپ کی کتاب عباس آفندی سوانح و تعلیمات “مصنفہ 1902ء سے لیا ہے۔اقبال اس کا خود ذکر کرتے ہیں۔خاص طور سے ”فلسفہ ونفسیات“ والا باب اسی سے ماخوذ ہے۔ان کا آخری ایام کا فلسفہ امر بہائی کے بنیادی نظریات سے ہم آہنگ ہو گیا تھا۔“38 علامہ اقبال فلسفہ عجم (انگریزی) میں فرماتے ہیں: لیکن فلسفہ عجم کے سارے مختلف دھارے ایک دفعہ پھر ایران جدید کی اس عظیم دینی تحریک بابی ازم و بہائی ازم میں آکر مل گئے تھے۔جس کا آغاز سید علی محمد باب (متولد 1819) کے ظہور سے شیعہ فرقے کی حیثیت سے ہوا۔لیکن یہ تحریک بڑھتے ہوئے متعصبانہ قتل عام کے باعث اپنے کردار میں کم سے کم اسلامی ہوتی گئی۔“ 39 مرحوم اسفند یار بختیاری اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں کہ : ” میں نے مار تھاروٹ اور علامہ اقبال کا ہم شہری اور ہم جماعت پر وفیسر پریتم سنگھ (دیال سنگھ کالج) کی معیت میں 22 جون 1930ء کو علامہ اقبال سے ملاقات کی۔جناب قرۃ العین طاہرہ کے کلام کا مجموعہ ”تحفہ طاہرہ “ اور ”بہاء اللہ و عصر جدید “ ان کی خدمت میں پیش کی۔علامہ نے یہ دونوں کتابیں شوق سے قبول کیں اور مطالعہ کرنے کا وعدہ کیا۔اس موقع پر علامہ اقبال نے اپنے لیکچروں کا مجموعہ ” تشکیل جدید الہیات اسلامیہ “ مار تھا روٹ کو پیش کیا تا کہ آئندہ ملاقات میں اس پر گفتگو ہو سکے۔تین اشخاص پر مشتمل یہی وفد 24 جون کو دوبارہ ان کی خدمت میں پیش ہوا۔بختیاری لکھتے ہیں کہ : اس مرتبہ اقبال پہلے دن سے زیادہ مسرور نظر آتے تھے۔آپ نے امریکن خاتون مار تھاروٹ کا بیحد احترام کیا۔دوران گفتگو علامہ نے بتایا کہ وہ ایک کتاب میں قرۃ العین طاہرہ کا ذکر کریں گے جو زیر تنظیم ہے۔آج کی ملاقات کے دوران مار تھاروٹ نے علامہ کو بتایا کہ ان خطبات