مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 239 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 239

239 موعود) کا زمانہ پائے تو وہ میری دلی آرزو کو پورا کرے تا محمدیت کے لشکروں میں سے آخری لشکر میں بھی شامل ہو سکیں۔یہ تو امت کے بلند پایہ مجدد، محدث اور صاحب کشف والہام بزرگ حضرت سید ولی اللہ شاہ دہلوی کا مسلک تھا مگر ابوالکلام آزاد صاحب نے حکیم سعد اللہ صاحب کے نام مراسلہ کے آخر میں آمد مسیح“ کے بارے میں لکھا۔: ”اگر آپ طالب حقیقت ہیں تو ان جھگڑوں میں نہ پڑیئے ، نہ ان خرافات کے بارے میں سوال کیجئے۔“17 آزاد صاحب کا یہ خط مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے ”اہلحدیث “ میں شائع کر دیا اور اس کو زبر دست تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اعتراض کیا کہ آزاد صاحب نے اپنے مراسلہ میں احادیث کا کیوں ذکر نہیں کیا۔اس سلسلہ میں انہوں نے مطبوعہ پرچے کے ساتھ مکتوب کے ذریعہ ان سے وضاحت چاہی جس کا جواب ابوالکلام صاحب نے جن الفاظ میں دیا، اس نے یہ حقیقت پوری طرح بے نقاب کر دی کہ احراری علماء کے ”امام الہند آنحضرت صلی علیم کے باغی ہیں اور ان کی یہ بغاوت بابیت و بہائیت ہی کی پیداوار تھی۔آزاد صاحب نے لکھا: نزول مسیح کی خبر محض آثار قیامت کے سلسلے میں دی گئی ہے۔مسلمانوں کی 18" نجات وسعادت کے معاملے کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔آزاد صاحب کی سرور کائنات صلی املی کم سے غداری کا بھانڈا 1927ء میں ہی پھوٹ چکا تھا جبکہ مسلمانان ہند نے حضرت امام جماعت احمدیہ کی قیادت میں ”ور تمان “ اور ”رنگیلا رسول کی مخش اور گالیوں سے بھری مغلظات کے خلاف ناموس رسولِ عربی کی حفاظت کے لئے تحریک اٹھائی۔ہائیکورٹ پنجاب کے جسٹس دلیپ سنگھ نے فیصلہ کیا کہ یہ تحریرات دفعہ 153 الف کی زد میں نہیں آتیں۔اس فیصلہ نے ہندوستان کے عشاق رسول کو ماہی بے آب کی طرح تڑپا دیا مگر احرار اور ہندو کانگرس کے متفقہ ”امام الہند “ نے بد قماش آریہ سماجیوں کی پیٹھ ٹھونکتے ہوئے اس تحریک کو ”لغویت کا نام دیتے ہوئے ایک غیور مسلمان کو خط لکھا:۔”آپ کو معلوم نہیں پچھلے دنوں کسی چیز نے مجھے اتنی اذیت نہیں دی جس قدر آپ کے فدایان رسول کی ان نا قابل برداشت لغویتوں نے۔کبرت كلمة تخرج من افواههم ان يقولون الا كذبا لطف یہ ہے کہ آپ از راہ جوش ایمانی مجھے بھی