مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 236
236 66 ایک اردو اخبار میں اس (مفسر) کا ایک خط شائع ہوا ہے جس میں وہ لکھتا ہے کہ جو امور مدارِ نجات ہیں لازمی ہے کہ قرآن ان کو کھول کر بیان کرتا ہو جیسا کہ آقيْمُوا الصَّلوة کا حکم بالصراحت آیا ہے بلکہ وہ امور اس سے زیادہ صراحت سے بیان ہونے چاہئیں جو امور مدارِ نجات ہیں ان کے سوا جتنے بھی احکام قرآن میں وارد ہیں جن کو عقائد میں شامل نہیں کیا گیا ان احکام کو مانا اور ان پر اعتقاد رکھنا لازمی نہیں ہے۔وہ کہتا ہے کہ میرا اعتقاد ہے مسیح ابن مریم نازل نہیں ہو گا۔اس پر اُس سے پوچھا گیا کہ ہم تیری بات کیسے مان لیں جبکہ نزول مسیح کے بارہ میں صحیح اور کثیر روایات موجود ہیں؟ تیرا ان احادیث کے متعلق کیا کہنا ہے ؟ اس کا جواب اس نے صرف اتنا دیا کہ ”نزول مسیح کا ذکر اشراط قیامت میں سے ہے اور عقائد میں داخل نہ ہے “ یہ کس قدر عجیب بات ہے۔کیا جو باتیں رسول اللہ صلی الیکم نے بیان فرمائی ہیں کیا ان کی تصدیق کرنا جزو عقیدہ نہیں۔جب رسول اللہ صلی الیکم ایک بات بیان فرماتے ہیں اور اس کے وقوع پذیر ہونے کی خبر دیتے ہیں اور وہ روایت صحیح اور متواتر سند کے ساتھ زمین کے مشرق و مغرب میں پھیل چکی ہو تو کیا اس کے علاوہ کوئی اور بات ہو گی جس پر ایمان لانا اور کان دھر نا چاہیے ؟ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علم ہمیں بالصراحت حکم فرماتے ہیں کہ ابن مریم کے نزول پر ایمان لاؤ۔لیکن اس مفسر کے نزدیک اس حکم کا صرف حدیث میں وارد ہو نا کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ قرآن میں بھی صریحاً امنوا بنزول عیسی بن مریم کے الفاظ ہونے ضروری ہیں۔کیا اس شخص کیلئے یہ ارشاد نبوی کہ وکیف انتم اذ انزل فیکم ابن مریم کافی نہیں ؟ کون سے وضاحت اور خبر اس “ ارشاد نبوی سے بڑھ کر واضح ہو گی ؟ وہ ارشاد بھی ایسا کہ پورے تواتر سے ثابت ہے۔جب سورج طلوع ہو جائے تو پھر کسی اور روشنی کی ضرورت نہیں رہتی۔اگر (اعتقادات اور نجات کا معاملہ اسی طرح ہوتا جس طرح کہ یہ شخص (ابوالکلام) خیال کرتا ہے تو بتائے کہ قرآن میں پانچ نمازوں کا، زکوۃ کی شرح کا، روزہ کے کفارہ کا کہاں بالصراحت ذکر آیا ہے ؟ کیا ان ( نماز، زکوۃ، روزہ کی فرضیت کا اعتقاد مدارِ نجات نہیں ہے ؟ کیا ان کی فرضیت کے منکر کو کافر نہیں قرار دیا جائے گا؟ ہمارے بزرگ استاد امام العصر رحمہ اللہ اپنے رسالہ ”اکفار الملحدین فی ضروریات الدین“ میں لکھتے ہیں: ” جب آپ نے میری ابتدائی بحث سمجھ لی ہے تو اب میں کہتا ہوں کہ ان امور ( نماز، زکوۃ، روزہ کی فرضیت کا اعتقاد رکھنا فرض ہے اور ان کا علم حاصل کرنا بھی فرض ہے اور ان کا انکار کفر ہے اور ایسا ہی ان سے لا علم رہنا بھی کفر ہے۔مسواک کرنا سنت ہے اور اس کے مسنون ہونے پر اعتقاد