مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 235 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 235

235 اسی طرح آیت اَوْ كَالَّذِی مَرَّ عَلی قَرْيَةٍ۔۔کو بھی ظاہر سے پھیرنے کی کوشش کی ہے لیکن صرف ایک میں ایسا کرنے میں کامیاب ہو سکا ہے۔ملاحظہ ہو ( ترجمان القرآن صفحہ 269) اسی طرح آیت فَخُذُ اَرُ بَعَةً مِّنَ الطَّيْرِ کی وہی تفسیر کی ہے جو ابو مسلم اصفہانی معتزلی نے کی ہے جو امام رازی نے اپنی تفسیر میں نقل کی ہے۔نیز ابوالکلام اپنی تفسیر کے آخر پر جمہور علما کے اقوال کو رد کر دینے کے قابل چیز قرار دیتا ہے۔(ملاحظہ ہو صفحہ 270-271) اس طرح اس مفسر نے اپنی کتاب کے صفحہ 200 وغیرہ پر آیت وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ کی تفسیر میں تحریف کر کے ایسی ایسی تاویلات لکھی ہیں جو ائمہ اہل سنت اور جمہور علماء امت میں سے کسی نے نہیں کیں۔اس کی ساری تفسیر ایسی ہی رکیک تاویلات سے بھری پڑی ہے جن کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔اس مفسر کا ایک خاص اسلوب یہ ہے کہ کس آیت کی تفسیر کرتے وقت احادیث مبارکہ کی طرف قطعاً توجہ نہیں کرتا بلکہ ان کے بالمقابل یونان اور فرانس کے مؤرخوں کی کتب تاریخ پر اعتماد کرتا ہے خواہ ان کی بنا انکل اور قیاسات پر ہی ہو۔حالانکہ احادیث تو مستند ہونے کے اعتبار سے آثارِ قدیمہ اور تاریخی کتبوں سے زیادہ تر مر تبہ پر ہیں کیونکہ ان آثار اور کتبون پر دلیل کوئی نہیں جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مَالَهُمْ بِذَلِكَ مِنْ عِلْمٍ - إِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُوْنَ۔اور ایک اس مفسر کی مخصوص عادت یہ ہے کہ جب وہ کسی معاملہ میں اپنی ایک رائے قائم کر لیتا ہے تو پھر اسی کو ایسی قطعی بات خیال کرتا ہے کہ جس کا مقابلہ اس کے خیال میں مرفوع حدیث یا صحیح روایت اور درست درایت بھی نہیں کر سکتی۔ایک طریق اس مفسر نے یہ اختیار کیا ہے کہ مفسرین کے قوی تر اقوال کو ترک کر کے ان کے کمزور تر اقوال درج کر کے ان کو رد کرتا ہے۔پھر (بغیر نام لئے ) ان کا کوئی اچھا قول اپنے نام سے لکھ کر اس پر اتراتا ہے اور بسا اوقات یہ شخص ان مفسرین پر استہزا بھی کرتا ہے۔بقول شاعر وہ ( مخالفین )مکہ میں نوفل قبائل کے ہاں ٹھہرے اور میں نے صحرا میں اُن سے بہت دُور قیام کیا ہے۔اور لغو اور مہمل کلام کرنے والا گمان کرتا ہے کہ وہ ہی درست ہے پس جو خیال اس کے دل میں آتا ہے تو وہ اُسے کہہ دیتا ہے۔