مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 234
234 سے ہیں سال قبل ان آیات کے کئے ہوئے ترجمہ سے کیا ہے جو اس کے اخبار ”الہلال“ میں چھپا تھا اور دونوں تراجم میں جو اختلاف ہے اسے کھول کر بیان کیا ہے۔اندریں صورت مجھے سمجھ نہیں آئی کہ پھر یہ کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ یہ تفسیر ایسے اعلیٰ پایہ کی ہے کہ دنیا بھر کی تفاسیر میں سے کوئی بھی اس کے ہم پلہ نہیں۔ہاں یہ حقیقت ہے کہ کوئی بھی تفسیر اس تفسیر سے اس کی ان بے دلیل گھڑی ہوئی باتوں میں مشابہ نہیں عجیب تر بات یہ ہے کہ وہ شخص جو اس مؤلف کی تفسیر کی تعریفوں کے پل باندھ رہا ہے وہ خیال کرتا ہے کہ اس تفسیر میں بڑی قابل ستائش باتیں بیان ہوئی ہیں۔وہ اخبار ” المعارف“ کی مجلس ادارت کارکن ہے اور اس اخبار المعارف میں جو اس تفسیر کی اصل حقیقت پر مبنی مضمون چھپا تھا وہ شخص اس مضمون سے بھی بخوبی آگاہ ہو گا۔پھر نجانے اس نے کیسے یہ تعریفی باتیں کہہ دی ہیں۔یہ معاملہ تو حد سے ہی باہر ہو گیا ہے۔آج کوئی بچانے والا نہیں۔ہاں جس پر وہ اللہ رحم کر دے وہی نجات پائے گا۔میں نے جو اس تفسیر کے متعلق چند باتیں لکھی ہیں یہ وہ اصول ( بنیادی امور ) ہیں جن پر اس تفسیر کی بنا ہے ورنہ جو اس تفسیر میں کئی آیات کو حسب خواہش نفسانی موڑ توڑ لینے ، ایسی تاویل کرنے جس کو نہ اللہ پسند کرتا ہے اور نہ ہی وہ اس (رسول) سے مروی ہیں جس پر قرآن نازل ہوا تھا اور نہ ان صحابہ سے مروی ہیں جو قرآن کے اول مخاطب تھے۔بہت سی ایسی باتیں جو ثابت شدہ اور صحیح ہیں اس تفسیر میں ان کے بر خلاف لکھا گیا ہے مگر یہاں تفصیلاً ان کا ذکر کرنے کا موقعہ نہیں اور نہ ہی ان باتوں کا رد درج کرنے کا موقعہ ہے۔تاہم غافلوں کو بیدار کرنے اور دھو کہ خوردوں کو متنبہ کرنے کے لئے اس کی تفسیر میں سے بعض آیات کی تفسیر درج کرتے ہیں۔چنانچہ یہ مفسر آیت كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ (2:66) کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ تم انسان کے مر تبہ سے گرتے ہوئے بندروں کی طرح ذلیل ور سوا ہو جاؤ۔تم مروت و انسانیت کی محفلوں سے دھتکار کر نکال دیئے جاؤ گے۔پھر اپنی تفسیر کے صفحہ 261 پر آیت فَقَالَ لَهُمُ اللهُ مُوْتُوا کی تفسیر میں لکھتا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ تمہاری بزدلی کی وجہ سے تم پر موت ہے یعنی تمہارا دشمن تم پر غالب آجائے گا اور تم دشمن پر فتح و کامرانی کی زندگی سے محروم کر دئے جاؤ گے۔ثُمَّ أَحْيَاهُمُ اللهُ یعنی پھر اللہ نے ان میں عزم و ہمت اور ثبات قدم کی روح پھونک دی جس کے نتیجہ میں وہ قتال کے لئے مستعد ہو گئے تو اللہ نے انہیں فتح اور نصرت عطا فرمائی۔