مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 233 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 233

233 سینوں کو کشادہ کرو اور جس گھٹن اور سنگدلی پر قائم ہو اسے ترک کر دو۔(مؤلف مزید لکھتا ہے کہ ) اگر ایک شخص اسلام کے آجانے کے بعد بھی اور گزشتہ شرائع کو منسوخ کر دینے کے بعد بھی شریعت محمد یہ سے رو گردان رہ کر شریعت موسویہ پر کار بند رہے، شریعت موسویہ کے حلال و حرام کی پابندی کرے اور شریعت اسلامیہ کے حلال و حرام کی پابندی نہ بھی کرے۔تب بھی اس مؤلف کے خود ساختہ اصول کی رُو سے ایسا شخص نہ صرف مسلم ہے بلکہ نجات یافتہ بھی ہے۔یہ اور اس قسم کی اور کئی باتیں ہیں جو اس نے اپنی چرب زبانی سے اور ملمع سازی سے مختلف اسالیب میں سجا کر پیش کی ہیں اور لوگوں کو اپنی روڑی پر اُگنے والی سبزے سے لوگوں کو دھوکہ دیا ہے۔یہ شخص اپنی دشمنی کی بنا پر ہتھیاروں کی جھنکار سنا رہا ہے مگر تہی دست ہے۔یہ وہ ہے جو اس کی واضح عبارتوں کا ماحصل اور مغز ہے۔ان عبارتوں کی کوئی اور تاویل نہیں کی جاسکتی سوائے اس کے ان کی ایسی تاویلات کی جائیں جن کی گنجائش ہی نہ بنتی ہو۔پس کیا اس شخص کا قلم اس کے اصل مقصد کو واضح کرنے سے قاصر رہ گیا ہے؟ حالانکہ یہ ایک فصیح و بلیغ شخص ہے جو اپنی غرض کو بخوبی کھول کر بیان کر سکتا ہے۔جس معیاری بات کی اس شخص سے توقع تھی۔جبکہ وہ اس سے صادر ہی نہیں ہوئی تو پھر ادنی گھٹیا چیز کو کس طرح ترجیح دے دی جائے ؟ ( پھر اس مؤلف کو مخاطب کر کے لکھا ہے کہ) کیا تیرے لئے کوئی ایسی تاویل کرنا ممکن ہے جو ہر قسم کے بحث مباحثہ سے خلاصی بخشے اور پیاسے کو سیر کر سکے؟ یہ مؤلف کہتا ہے کہ اسلام تمام ادیان کے پیرو کاروں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے مسخ شدہ دینوں پر اور جو کچھ لوگوں نے ان دینوں میں جھوٹ اور نفسانی خواہشات کو ملا جلا دیا ہے اس پر قائم رہیں۔نیز اسلام انہیں ہر گز پابند نہیں کرتا کہ وہ اپنے دینوں کو چھوڑ کر کوئی دوسرادین اختیار کریں۔یہ اور اس قسم کی دیگر شبہات سے پر اور دھوکہ کی باتیں مؤلف نے اپنی اس تفسیر میں لکھ دی ہیں جو لوگوں کو ہلاکت کے گڑھے میں گرادیں گی۔کیا تم دونوں نے (اس) انسان سے پوچھ لیا ہے کہ وہ کیا (حاصل کرنا چاہتا ہے؟ کیا (وہ) موت جو وہ دیا جائے گا یا گمراہی چاہتا ہے اور بے مقصد کام کئے جارہا ہے۔اور ہر انسان ایک نہ ایک دن ضرور اپنا حال جان لے گا جب اللہ کے حضور (اس کے ) فضائل و طبائع ظاہر ہو جائیں گے۔اخبار ”معارف والوں نے اس مؤلف کے خیالات کی تردید میں ایک مبسوط مقالہ لکھا ہے اور بعض آیات کا ترجمہ جو اس نے اس تفسیر ترجمان القرآن میں کیا ہے اس کا موازنہ اسی مؤلف کے آج