مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 221
221 مذاہب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ایک بہائی محمد یوسف بجنوری صاحب کا بیان ہے کہ ”ابوالکلام آزاد کے سید محفوظ الحق علمی (بہائی مبلغ) سے گہرے مراسم تھے۔ایک دفعہ وہ علمی صاحب سے بہائی کتابیں لے گئے۔ان کا بیان ہے کہ آزاد، امر بہائی سے بہت محبت کرتے تھے۔ایک دفعہ سفیر ایران نے ان کے سامنے بہائیوں کو گمراہ کہا جس پر انہوں نے فوراً ٹو کا اور کہا کہ جناب سفیر آپ کو مفتی کس نے بنایا ہے ؟ آپ اپنی سفارت کے فرائض سر انجام دیجئے“۔9 ابوالکلام آزاد صاحب نے بیسویں صدی کے تیسرے عشرہ میں ”ام الکتاب“ کے نام سے سورۃ فاتحہ کی تفسیر لکھی جس میں بہائیت کے مخصوص عقائد کی ترجمانی میں پورا زور قلم صرف کر دیا۔بہائی لوگ قرآنی آیت وَلِكُلِ أُمَّةٍ اَجل سے قرآن کی منسوخی کا استدلال کرتے ہیں ، وہ دنیا ہی کو یوم الدین کا مصداق تسلیم کرتے ہیں اور قیامت سے مراد فقط بہاء اللہ کا ظہور لیتے ہیں اور مرنے کے بعد کی زندگی اور روز حشر کی جزا سزا کے قائل نہیں۔آزاد صاحب نے اپنی نام نہاد تفسیر ام الکتاب میں اس بابی اور بہائی مسلک کی بالواسطہ طور پر کھلے لفظوں میں تائید کی۔نیز لکھا ” الدین“اور ”الاسلام“ سے مراد فقط وہی بنیادی پیغام ہے جو ہمیشہ ہر نبی اور رسول پیش کرتا آیا ہے اور عمل صالح اس پیغام کی اطاعت کا نام اور اسی پر نجات کا دارومدار ہے اور یہی صراط مستقیم ہے۔آنحضرت صلی اللہ کی بھی کوئی نئی چیز نہیں لائے تھے اور ایمان اور عمل صالح پر کسی مذہب یا طبقہ یا علاقہ کی اجارہ داری نہیں ہے۔اس گمراہ کن تفسیر پر دار العلوم دیو بند کے چوٹی کے عالم محمد یوسف بنوری استاذ جامعہ ڈا بھیل (سورت) نے زبر دست تنقید کرتے ہوئے لکھا:۔" ” من التفاسير التى الفت با للغة الهندوستانية تفسير الامام ابي الكلام الذي لا يضاهيه تفسير فى العالم السلامي غير تفسير الامام الحجة المغفور له السيد رشيد ،رضا آه ولا ادری هل اراد بتلك الجملة ثناء ، خرج من جذر قلبه ائتلافا بما قاله ذالك المفسر اوداهن لمصالح يقتضيها العصر و اياما كانت فلست ادين الله بشيء منه فأقول ان ابا الكلام بـ احمد الدهلوى رجل وقاد القريحة واسع الطلاع صاحب بیان و بنان في الأردوية وعسى ان يكون فريداً فى بدائع الانشاء ومحاسن الخطابة في