مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 216 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 216

216 میں کچھ مال دے کر بھیجا تھا کہ مدینہ طیبہ کو پہنچ کر حجرہ شریفہ میں داخل ہو کر جسم اطہر حضرت سید کائنات صلی املی کام سے نعوذ باللہ گستاخی کریں۔جب یہ نقب قبر شریف کے قریب پہنچی تھی کافی ابر و بار، بجلی کی کڑک و دھما کہ اور زلزلہ عظیم پیدا ہوا تھا۔اسی رات کی صبح کو سلطان سعید پہنچ گیا۔یہ سن کر سلطان پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوئی اور کافی وقت گریہ وزاری میں گزارا اور حجرہ شریف کی شباک کے نیچے ان ہر دونا پاکوں کی گردنیں مار ڈالیں اور شام کے قریب انہیں جلا دیا۔اور حجرہ کے گرد ایک گہری خندق کھودی جو پانی تک پہنچ گئی اور سیسہ پگھلا کر اس میں بھر دیا تاکہ وجود شریف تک پھر کوئی بھی نہ پہنچ سکے۔“7 تاریخ اپنے تئیں دہراتی ہے۔روضہ رسول صلی ال نیم کی نقب زنی کا پہلا واقعہ ظاہری اعتبار سے ہوا اور بیسویں صدی میں آنحضرت صلی کم کی لائی ہوئی آخری عالمگیر شریعت میں سرنگ لگا کر اسے سوشلزم اور بابیت کے نظریاتی بارود سے اڑانے کا ناپاک منصوبہ بنایا گیا جیسا کہ آئندہ سطور میں واضح ہو جائے گا۔7" مفسر قرآن کے بھیس میں تبلیغ بہائیت 1905ء میں جناب ابو الکلام آزاد صاحب غدر پارٹی میں شامل ہوئے اور ساتھ وہ الحاد کی تاریکیوں میں ڈوب کر اسلام بلکہ مذہب سے ہی یکسر برگشتہ ہو گئے۔آزاد صاحب نے اپنی خود نوشت میں اسے انکار والحاد اور صدی کے برابر رات سے تعبیر کیا ہے اور تسلیم کیا ہے کہ الحاد وزندقہ کے اس دور کا آغاز سولہ سترہ برس کی عمر میں یعنی 1904ء۔1905ء میں ہوا جس کے نتیجے میں نہ صرف انہوں نے نمازیں ترک کر دیں بلکہ مسلمانوں کی حالت کو دیکھ کر وہ ہستی باری تعالیٰ اور اسلام کے دوسرے عقائد ہی سے یکسر منحرف ہو گئے۔اس عبرتناک تبدیلی کا نقشہ آزاد صاحب کے قلم سے پیش کیا جاتا ہے: ”ایک رات ، جو اپنی اذیت، اپنی کشمکش، اپنے واقعات کے اعتبار سے ایک سال، ایک قرن، بلکہ ایک پوری عمر کے برابر تھی! اس وقت گویا میں آخری فیصلہ کرنے والا تھا۔ایک مستغرق یقین کی جگہ ایک بے رحم انکار میرے حصے میں آنے والا تھا۔۔۔۔تمام شب کشمکش و تذبذب میں کٹ گئی۔بڑا سخت مقابلہ رہا، یعنی اپنا تمام سرمایہ