مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 212
212 پیسا؟ دل کو دہلا دینے اور خون کے آنسور لا دینے والے اس سرخ انقلاب کی المناک داستان جناب عیسی یوسف الپتین صاحب سابق جنرل سیکرٹری مشرقی ترکستان (47-1948ء) ممبر چینی پارلیمنٹ کے قلم سے درج ذیل کی جاتی ہے :۔روسیوں نے ایک طرف چینی (مسلم) جنرل ماچنگ ( ینگ) کو مغربی ترکستان میں پناہ لینے پر مجبور کیا، دوسری طرف مشرقی ترکستان کی اس قومی حکومت کے سامنے جو کاشغر میں قائم ہوئی تھی لیکن جس کا دار الحکومت اب ینی حصار منتقل ہو گیا تھا، بعض تجاویز پیش کیں۔ان تجاویز میں ایک تجویز یہ تھی کہ خواجہ نیاز علیحدگی کے خیال سے باز آجائیں اور قومی حکومت کو ختم کر کے مشرقی ترکستان کی صوبائی حکومت میں صدر کے معاون کا عہدہ قبول کر لیں۔قومی حکومت کے فوجیوں کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ جنرل محمود کی کمان میں کا شغر یار قند اور آق صو کے علاقوں میں آباد کر دیئے جائیں گے اور روس کی قابض فوجیں اور شن سی سای (Shen Shih Tsai) ان فوجیوں سے کچھ نہیں کہیں گے۔ان تجاویز کو قبول نہ کرنے کی صورت میں یہ دھمکی دی گئی کہ روسی قومی حکومت کو طاقت استعمال کر کے ختم کر دیں گے اور ترکستان کے تمام قومی رہنماؤں کو گرفتار کر کے سزائے موت دیں گے۔ترکستان کی حکومت کے پاس فوجی ساز وسامان نہ تھا اور تحریک آزادی کی حیثیت محض ایک مقامی احتجاج کی تھی۔اس کے علاوہ اس کو ابھی بین الا قوامی حیثیت بھی حاصل نہ ہوئی تھی۔چنانچہ اس مجبوری کے تحت قومی حکومت کے صدر خواجہ حاجی نیاز نے روس کی پیش کردہ شرائط کو تسلیم کر لینا مناسب سمجھا۔روسیوں کو خواجہ نیاز کی اس خواہش کا جیسے ہی علم ہو اوہ ان کو زبر دستی ارومچی لے آئے اور نائب صدر کے عہدہ پر بٹھا دیا۔جہاں تک جنرل شن سی سای کا تعلق تھا، اس کی حیثیت روسیوں کے تابع ایک کٹھ پتلی سے زیادہ نہیں تھی۔اس طرح مشرقی ترکستان میں روسی تسلط کے دور کا آغاز ہوا۔حالات بہتر ہو جانے کے بعد روسیوں نے اپنی قابض فوجوں کو مشرقی ترکستان کے بیشتر حصے سے واپس بلالیا لیکن قومول اور کاشغر میں اپنی فوجوں کو رہنے دیا کیونکہ یہ وہ مقامات تھے جہاں قومی مقاومت کی صلاحیت زیادہ تھی۔