مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 206 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 206

206 بیسویں فصل اشتراکی روس کے ایجنٹ ملاؤں کے ذریعہ طوفانِ ارتداد جہاں برٹش انڈیا میں ابوالکلام آزاد، اقبال اور احرار معصوم مسلمانوں کوسوشلزم کا پرستار بنانے میں سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے تھے وہاں ملا نور وحیدوف‘ ملا سلطان اور دیگر بہت سے دنیا پرست ملا روسی ایجنٹ بن کر بالشویک روس کے مسلمانوں کو مر تذ کر رہے تھے۔یہی وہ دشمنانِ اسلام تھے جنہوں نے سوشلزم کے عین اسلام ہونے کا وسیع پیمانے پر پراپیگینڈا کیا اور ”اسلامی سوشلزم کی اصطلاح اختراع کی۔1 چنانچہ کتاب ”روس میں مسلمان قومیں “ کے مولف جناب آبادشاہ پوری رقمطراز ہیں: بالآخر وہ مناسب وقت آ پہنچا۔ترکستان کا اسلامی معاشرہ اور اس کی تہذیبی و تمدنی عمارت منہدم کرنے کیلئے متواتر کئی برس سے جو بارود بچھایا جارہاتھا، اس کو آگ لگ چکی تھی۔اور پھر اس عمارت کی اینٹ سے اینٹ بج گئی جو صدیوں سے طوفان اور آندھیوں کا مقابلہ کرتی چلی آرہی تھی۔ہر طرف افتراق و انتشار برپا ہو گیا۔فکری و نظریاتی بغاوت نے یقین و ایمان کی دنیا تہہ وبالا کر دی اور لوگ اپنے ارتداد کا اعلان کھلے عام کرنے لگے۔ان میں وہ لوگ پیش پیش تھے جو دین متین کے علمبر دار، تعلیمات اسلامی کے حامل اور دعوتِ دیں کے داعی تھے ، جن کا منصب حق و باطل کی کشمکش میں مسلمانوں کی رہنمائی تھی۔ترک اسلام کے اعلانات اشتراکی پریس میں جلی سرخیوں میں شائع ہو رہے تھے۔ایک عالم نے اپنے اعلانِ ارتداد میں کہا: میں علماء اور جاگیر داروں کا فریب خوردہ ہوں۔میر انام بابو عابد شریف ہے، میں غازی آباد کی مسجد میں سالہا سال تک اپنے شب گرفتہ محنت کش کسانوں کے دماغ میں خرافات ٹھونستارہا ہوں۔اب مجھ پر صداقت آشکار ہوئی ہے۔امیر علماء کے بیانات پڑھ کر میری آنکھیں کھل گئی ہیں۔مجھے پتا چل گیا ہے کہ قرآن وحدیث کو یہ لوگ اپنے معاشی مفادات کے لئے استعمال کرتے تھے۔میں تمام لوگوں اور سوویٹ حکومت کے سامنے باضابطہ حلفیہ بیان دیتا ہوں کہ اب میں اسلام کا خادم نہیں رہا ، جس پر نہ تو میرا ایمان ہے نہ یقین، جو عوام کو محض فریب دینے کے لئے گھڑا گیا تھا۔“