مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 11 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 11

11 لئے راؤنڈ ٹیبل کا نفرنسوں کے مسلم نمائندوں پر شرمناک پھبتیاں کسیں۔مگر جب انہیں ناکامی ہوئی تو گاندھی جی نے ایک طرف اچھوتوں کو ہندو قوم میں شامل کرنے کے لئے مرن برت رکھا دوسری طرف مسلم اقلیت کی تعداد کو کم کرنے کے لئے یہ چال چلی کہ اکتوبر 1931ء میں احراری اور کانگرسی مولویوں کے ذریعہ احمدیوں کو دوسرے ہندوستانی مسلمانوں سے الگ اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کر دیا جس کی پر زور تائید سر اقبال نے کی جو نہ صرف سوشلزم کے زبر دست حامی اور بالشیو یک روس کے زبر دست مداح اور عقیدت مند تھے بلکہ ایران کے پیغمبر اشتراکیت مزدک کی علمبر دار تحریک بابیت اور اس کی ناقوس خصوصی اور گستاخ رسول قرۃ العین طاہرہ کو ایک برگزیدہ ہستی یقین کرتے تھے۔سر اقبال کے علاوہ جناب ابو الکلام آزاد کی تفسیر سورہ فاتحہ پر بھی بابیت و بہائیت کی چھاپ اس درجہ نمایاں ہے کہ احمدیت کے بدترین معاند دیوبندی عالم انور کشمیری کو بھی اس کے خلاف احتجاج کرنا پڑا جس کی تفصیل مع اس کے مستند مراجع و مصادر کے دوسرے حقائق کی طرح اپنے موقع پر آگے آرہی ہے۔23 مارچ 1940ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں قرار داد لاہور پاس کی گئی جسے بعد میں قرارداد پاکستان کا نام دیا گیا۔1945-46ء کے مرکزی اور صوبائی الیکشن ہوئے تو حضرت مصلح موعود کی قیادت میں برصغیر کے احمدیوں نے مسلم لیگی امید واروں کی زبر دست تائید کی۔جماعت احمد یہ وہ واحد مذہبی جماعت تھی جس نے تحریک پاکستان میں قائد اعظم کے دوش بدوش بھر پور حصہ لیا۔اس کے مقابل آل انڈیا نیشنل کانگرس اور دیوبندی جمعیتہ علماء ہند اور احراری مولویوں نے ڈٹ کر مخالفت کی۔پنڈت جواہر لال نہرو نے ایک ذمہ دار برطانوی افسر کو یہ راز کی بات بتائی کہ ہم مسٹر جناح کو کمزور سا پاکستان بالآخر ضرور دے دیں گے مگر ایسے حالات پیدا کر دیں گے کہ اہل پاکستان خود ہندوستان کی آغوش میں آجائیں گے اور ملک پھر متحد ہو جائے گا۔چنانچہ قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات (11 ستمبر 1948ء) کے بعد پاکستان سے ایک احراری لیڈر دہلی گئے اور خفیہ طور پر پنڈت جی سے ملاقات کی اور درخواست کی کہ پاکستانیوں کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے۔اگر ہماری مدد کی جائے تو ہم دونوں ملکوں کو متحد کر سکتے ہیں۔21 اس ملاقات کے بعد احرار نے "ختم نبوت“ کے نام پر باغیانہ تحریک چلائی اور مملکت خدا داد پاکستان کے امن وامان کو تہ و بالا کر دیا اور نوبت 1953ء کے خونیں فسادات پنجاب تک پہنچ گئی۔ایجی ٹیشن کی ناکامی کے بعد اکثر احرار لیڈر مشرقی پاکستان کی عوامی لیگ میں شامل ہو کر دونوں