مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 178
178 لیگ کا نقاب اوڑھے ہوئے انگریز کا ایجنٹ ایسے موقع کی تاک میں رہتا ہے کہ کب کا نگر سی مسلمان کی زبان سے کوئی غیر محتاط کلمہ نکلے اور اسے عوام میں بد نام کر نے کا موقع میسر آئے۔“11 ہم لیگ کو دام فرنگ سمجھ کر دور ہی رہنا چاہتے ہیں۔”سوشلسٹ کی مایوسیوں میں مجھے اس سے ہمدردی ہے۔میں اسے یقین دلاتا ہوں کہ اخوت و مساوات کے علاوہ کسی اورنچ بینچ کے اصول پر سوسائٹی کی تعمیر کرنے والا خدا اگر ڈھونڈے سے بھی مل جائے گا تو احرار کے ہاتھ سے پناہ نہ پائے گا۔“13 مسلمانوں کو سوشلسٹ سے نفرت نہ ہونی چاہئے۔۔۔۔امید رکھنی چاہئے کہ ایک دن اشتراکی روس لاالہ کہتے کہتے چند سالوں کے بعد یک بیک الا اللہ کا نعرہ بلند کر ے گا۔ہم آہستہ سے مشورہ دیں گے کہ بھلے اب محمد رسول اللہ بھی کہہ دے۔“14 قادیانی فتنہ کے خلاف ہماری جد و جہد بے حد صبر آزمارہی ہے۔۔۔۔تاہم ہمیں خدا کی مہربانی پر بھروسہ ہے کہ احرار کا وسیع نظام۔۔۔۔دس برس کے اندر اندر اس فتنہ کو ختم کر کے چھوڑے گا۔۔۔۔ملک میں انگریزی اثر ورسوخ جوں جوں کم ہو گا، توں توں سرکار کا یہ خود کاشتہ پودا مر جھاتا چلا جائے گا۔“15 16" ”سوچ لو پاکستان کی تحریک بھی برطانوی جھانسہ ہی نہ ہو۔۔۔۔پاکستان کی تحریک مکافی لحاظ سے نہیں بلکہ زمانی لحاظ سے بھی شر انگیز ہے۔مجلس احرار کا ترجمان ”آزاد لاہور لکھتا ہے: ” جب حجۃ الاسلام حضرت علامہ انور شاہ صاحب کا شمیری،حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی اور حضرت مولانا ثنا اللہ صاحب امرت سری و غیر ہم رحمہم اللہ کے علمی اسلحہ فرنگی کی اس کاشتہ داشتہ نبوت“ کو موت کے گھاٹ نہ اتار سکے تو مجلس احرار اسلام کے مفکر اکابر نے جنگ کا رُخ بدلا، نئے ہتھیار لئے اور علمی بحث و نظر کے میدان سے ہٹ کر سیاست کی راہ سے فرنگی سیاست کے شاہکار پر حملہ آور ہو گئے۔“17 بر صغیر کی تاریخ کا ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے خلاف ملک بھر کے علماء کا فتویٰ کفر شائع کرنے والے محمد حسین صاحب بٹالوی کو انگریزی حکومت نے چار مربعے زمین عطا کی مگر حضرت مسیح موعود کے شاہی خاندان کی جاگیر جو اسی دیہات پر مشتمل تھی، ضبط کر لی گئی۔