مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 163
163 تھے اور سب سے زیادہ اُن کے اس خیال سے کہ پارٹی کا کام پیشہ وارانہ ہمہ وقتی انقلابیوں کے سپر دہونا چاہیے۔ایسے کارکنوں کی یقیناً ہندوستان میں اور زیادہ ضرورت تھی اور اب جواہر لعل بجاطور پر خود کو ایسا ہی کار کن سمجھ رہے تھے۔وہ جواہر لعل جو ہندوستان سے یورپ جاتے وقت گاندھی جی کے بے چون و چرا مقلد اور پیر و تھے ، اب ایک خودشناس، انتہا پسند انقلابی بن کر ہندوستان لوٹے۔گاندھی جی کا اثر یوں تو ان پر زندگی بھر رہا مگر اب وہ پھر بھی کبھی کبھی خود کو ”گاندھین سانچے“ میں محصور نہیں کر سکتے تھے۔لیکن معنی خیز امر یہ ہے کہ ان میں یہ تبدیلی ہندوستان کی انقلابی صورت حال نے پیدا نہیں کی بلکہ یورپ میں انہوں نے جو کچھ دیکھا، سنا اور پڑھا، یہ اس کا نتیجہ تھی۔یورپین نظریات اور عقائد کو خود اپنے ملک پر لاگو کرنے اور اپنانے کی کوشش میں جواہر لعل ہمیشہ ایک انتہا پسند رہے۔یہ ان کی طاقت بھی تھی اور کمزوری بھی۔5 مسٹر گوپال نے اپنے بیان میں پنڈت نہرو اور ان کے والد کے ماسکو جانے اور بالشویکی انقلاب کے دس سالہ جشن انقلاب میں شرکت کا ذکر کیا ہے۔6 مگر دنیا بھر کے سینکڑوں نمائندوں سمیت سٹالین کے دربار عام میں حاضری کا انقلاب آفریں واقعہ سیاسی مصلحتوں کی نذر کر دیا ہے۔حالانکہ دو سال بعد دسمبر 1929ء میں کانگرس کی طرف سے ملکی آزادی کی قراداد براہ راست اس کا رد عمل تھا۔جیسا کہ وہ اگلے باب میں ہی اعتراف کرتے ہیں کہ وو جواہر لعل اب ہندوستان لوٹے تو پہلے کی طرح افسانوی رومانیت کے موڈ میں نہیں تھے بلکہ انقلابی تبدیلی کے لئے ایک فکری انہماک اور سپردگی کا جذبہ لے کر لوٹے۔وہ عمل کے لئے بے چین تھے اور اب ان کے سامنے جو مقصود تھا، وہ کامل آزادی تھا۔جواہر لعل اس بارے میں عرصے سے سوچ رہے تھے اور آخر میں اس نتیجہ پر پہنچے کہ کانگرس کو اپنی تمام تر کوششیں کامل آزادی کے لئے وقف کر دینی چاہیں۔وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھے جیسا کہ اکثر اعتدال پسند کا نگریسیوں کا خیال تھا کہ درجہ نو آبادیات اور کامل آزادی میں کوئی خاص فرق نہیں تھا، جواہر لعل کی نظر میں زمین آسمان کا فرق تھا۔مطلب یہ تھا کہ موجودہ نظام بدستور باقی رہے۔حکومت بظاہر ہندوستانیوں کی ہو لیکن ہر معاملے میں عمل دخل برطانیہ کا ر ہے اور کامل آزادی کے معنی تھے انگریزوں کو ہندوستان سے نکال باہر کیا جائے اور اپنی آزاد حکومت بنائی جائے۔۔۔۔اس ایقان کو لے کر جواہر لعل نئے جوش اور جذبے کے ساتھ کسی لگی لپٹی کے بغیر کامل آزادی کی جدوجہد کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے “۔7 اب روس کی مستند تاریخ سے پنڈت نہرو اور ان کے والد کے علاوہ دنیا بھر کے سینکڑوں