مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 162
162 ترجمہ : بہر حال جواہر لعل کے ذہن پر اب سوویت یونین کا غلبہ تھا۔سوویت روس کے حالات اور ترقیوں کے بارے میں حامیوں اور نقادوں کی جو بھی کتابیں انہیں ہاتھ لگیں،سب پڑھ ڈالیں اور وہاں انہیں بہت کچھ قابل تعریف نظر آیا۔ان کا یہ ایقان تھا کہ بر طانیہ اور روس کے درمیان دشمنی کی جو بھی روایت رہی ہو، ایک آزاد ہندوستان کو سوویت روس سے کوئی خطرہ نہیں ہو گا اور اگر ہندوستان کمیونزم کا بالکلیہ مخالف ہو، تب بھی وہ روس سے دوستانہ تعلقات رکھ سکتا تھا اور ہمیشہ کی طرح جواہر لعل کی دور بین نظریں یہ دیکھ رہی تھیں کہ جیسے جیسے اس کی طاقت بڑھے گی، سوویت روس میں ایک نئے طرز کی سامراجیت پروان چڑھ سکتی تھی۔لیکن ان کا خیال تھا کہ یہ ابھی بہت دور کی بات تھی۔مستقبل قریب میں ایسا کوئی امکان نہیں تھا اور فی الحال وہ اپنے مفاد کے پیش نظر تمام مظلوم قومیتوں کی حمایت کر رہا تھا۔ہندوستان واپس ہونے سے پہلے جواہر لعل سوویت یونین جانا ضروری سمجھ رہے تھے۔موسم گرما میں جب ان کے والد موتی لعل یورپ آئے تو ان کو اسکا موقع مل گیا۔باپ بیٹے دونوں کو 1917ء کے بالشویکی انقلاب کے دو سالہ جشن سالگرہ میں شرکت کا دعوت نامہ ملا۔روس میں اگر چہ وہ صرف چند دن رہے لیکن جواہر لعل نے اپنے اس سفر کے بارے میں جو مضامین لکھے ہیں، ان سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے ذہن پر اس کے بہت گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ان کو معلوم تھا کہ وہ ایک انفرادی سیاحت پر تھے ، انہوں نے صرف انہی چیزوں کو دیکھا جو انھیں دکھائی گئیں۔وہ یہ بھی جانتے تھے کہ بے ترتیب وسیع صوبوں میں حالات ویسے نہیں تھے جیسے ماسکو اور اس کے مضافات میں تھے۔تاہم انہیں یقین تھا کہ سوویت یونین نے زراعت میں ، ناخواندگی ختم کرنے میں، جیلوں کی اصلاح میں، عورتوں کے ساتھ سلوک میں ، اقلیتوں کے مسائل سے نمٹنے میں، امیری اور غریبی کے فرق کو مٹانے اور طبقاتی کلیسائیت کو ختم کرنے میں بہت تیز رفتا ترقی کی تھی۔انہیں یہ بھی یقین تھا کہ سوویت روس سے ہندوستان بہت کچھ سیکھ سکتا تھا کہ وہ بھی ایک زرعی ملک تھا۔جس کی کثیر آبادی نادار اور ناخواندہ تھی۔جواہر لعل نے کہنا چاہیے، سوویت یونین کو اپنے ایک زمانہ عافیت Falcyon days“ کے آخری دنوں میں دیکھا تھا۔اگر ان کا رد عمل عینیت پسند انہ ہو ا تو اس لیے کہ ابھی فضا میں کچھ عینیت باقی تھی۔مارکسزم کی بنیادی تعلیم انہوں نے برسلز کا نفرنس میں اور اس کے بعد حاصل کی۔عملی شہادتوں نے اسے تقریباً کمیونزم میں بدل دیا تھا۔جواہر لعل بطور خاص لینن کی رہ نمائی، ان کی حقیقت پسندی، لچک اور جہند گی سے بے حد متاثر