مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 148
148 سوراجیہ کا دشمن سمجھا جائے گا اور کوئی سچا ہند وایسے اشخاص کے ساتھ اپنا کسی قسم کا تعلق نہیں رکھے گا۔“ ” سب سے پہلے آپ کا یہ فرض ہو گا کہ ایسے اسلام کو ہمیشہ کے لئے گنگاجی کے سپر د کر دو۔۔۔۔جب تک مسلمان تبلیغ کو ہندوستان کے اندر سے بند نہیں کریں گے، دونوں قوموں میں اتحاد نہیں ہو گا اور جو لوگ وید بھگوان اور شام کرشن کا نام مٹا کر عرب کے ریگستان کی تہذیب اور حضرت محمد کا نام سر زمین ورت میں پھیلانا چاہتے ہیں ان کے ساتھ ہندوؤں کا اتحاد کبھی نہیں ہو سکتا۔“ (آریہ دیر) پروفیسر رام دیو جو آریہ سماج کے بڑے لیڈر اور ان کے مرکزی کالج کے پرنسپل رہے ہیں اور بعد میں سیاسی کاموں میں پڑ گئے ، لکھتے ہیں: ”ہندوستان کی ہر ایک مسجد پر ویدک دھرم یا آریہ سماج کا جھنڈا بلند کیا جائے گورو گھنٹال اشاعت 10 جنوری 1927ء) پنجاب گا۔“ یہی صاحب آریہ سماج کے سالانہ جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے فرما چکے ہیں: اسی طرح اب ایک زمانہ آنے والا ہے کہ تمام مسجد میں آریہ مندر بنائے جائیں گے اور ان میں ہون ہوا کریں گے۔میں سوچا کرتا ہوں کہ جب دہلی کی جامع مسجد آجائے گی۔ہم کیا کریں گے۔ہم تمام ہندوستان کے آریہ نہیں بلکہ تمام دنیا کے آریہ جمع ہو کر ایک کا نفرنس کیا کریں گے۔“ ڈاکٹر گوگل چند نارنگ ایم۔ایل۔سی لاہور ہائی کورٹ کی بار کے پریزیڈنٹ جو سائمن کمیشن کی کمیٹی کے ممبر بھی تھے ، فرماتے ہیں: ”مجھے یہ کہنے میں بھی کوئی شرم نہیں آتی کہ اگر آپ کے ایک ہندو بھائی کو مسلمان بنانے میں آپ کسی کو روکتے نہیں اور وہ باز نہیں آتا تو بہتر ہے کہ آپ وہاں (پرتاپ) کٹ کر مر جائیں۔“ یہ تو انگریزی علاقہ کے لوگوں کا حال ہے۔اب ریاستوں کا حال دیکھیں۔سر والٹر لارنس Sir) (Walter Lawrence اپنی کتاب (India Which We Served) انڈیا جس کی ہم نے خدمت کی ) میں لکھتے ہیں کہ