مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 149
149 لارڈ کرزن (Lord Curzon) نے میری دعوت کا انتظام کیا تھا۔جنرل سر پرتاب سنگھ بہادر برادر مہاراجہ صاحب جودھ پور میرے بڑے دوست تھے۔دیر تک مجھ سے باتیں کرتے رہے۔دوران گفتگو میں کہنے لگے کہ ”میر امقصد یہ ہے کہ میں مسلمانوں کو ہندوستان میں فنا کر دوں۔“ میں نے ان کے تعصب کی مذمت کی اور ان کے اور اپنے مسلمان دوستوں کا ذکر کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ”ہاں میں بھی انہیں پسند کرتا ہوں لیکن مجھے زیادہ اچھا یہ معلوم ہو تا کہ وہ مر جائیں۔“ ان حوالہ جات سے معلوم ہوتا ہے کہ اکثر حصہ ہندو لیڈروں کا خواہ انگریزی علاقہ کے ہوں یا ریاستوں کے (۱) مسلمانوں سے شدید تعصب رکھتے ہیں۔(۲) وہ علی الاعلان یہ ارادہ ظاہر کر چکے ہیں کہ اگر ان کو طاقت حاصل ہوئی تو وہ مسلمانوں کو ہلاک کر دیں گے۔(۳) وہ ہندوستان میں صرف ہندوراج قائم کریں گے۔(۴) عیسائیوں اور مسلمانوں سے وہ کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے بلکہ اپنی مرضی کے مطابق ان کو ہندوستان میں رہنے کی اجازت دیں گے۔اور اس اجازت کے ساتھ یہ شرط ہو گی کہ وہ اپنے مذہب کو چھوڑ کر ہندو ہو جائیں۔(۵) وہ مسلمانوں کی زبان کو مٹادیں گے۔(۶) وہ اقلیتوں کے تہواروں کو قانوناً ناجائز کر دیں گے۔(۷) ان کی عبادتوں کو بدلائیں گے۔(۸) گائے کے ذبیحہ کو بزور شمشیر روک دیں گے۔(۹) تبلیغ کو ناجائز کر دیں گے۔(۱۰) اگر کوئی ہندو اقلیت کے مذہب کو قبول کرنے لگے گا تو ہندو اس سے روکیں گے لیکن اگر وہ باز نہ آیا تو ہندو کٹ کر مر جائیں گے۔(۱۱) افغانستان اور سرحد کو فتح کر کے انہیں شدھ کر لیا جائے گا۔(۱۲) مسلمانوں کی مسجدوں کو مندروں میں تبدیل کر دیا جائے گا۔(۱۳) مسلمانوں کے اسلامی نام تک بدل دئے جائیں گے۔(۱۴) جو لوگ ہند وزبان، ہندو مذہب اور ہندو تہذیب اور ہندو تہوار اختیار کرنے کو تیار نہ ہوں گے انہیں ہندوستان سے نکال دیا جائے گا۔(۱۵) اگر کوئی خواہ مہاتما گاندھی ہی کیوں نہ ہوں، اسلام اور مسلمانوں سے نرمی کی تعلیم دے گا تو اس کا بھی ہند و بائیکاٹ کر دیں گے۔یہ ارادے ہیں جو سوراج کے قیام پر ہندو مسلمانوں کے متعلق خصوصاً اور دوسری اقلیتوں کے متعلق عمو مار کھتے ہیں۔جو ان کا موجودہ سلوک ہے اس کا ذکر پہلے کر آیا ہوں۔کیا ان کی موجودگی میں عظمند کہہ سکتا ہے کہ اقلیتوں کو اپنے حقوق کی حفاظت کا مطالبہ نہیں کرنا چاہئے یا یہ کہ ایسا مطالبہ ڈیما کریسی (Democracy) کے حصول کے خلاف ہے۔کیا اس قدر سخت سلوک اور اس قدر خطر ناک ارادوں کی موجودگی میں دنیا کی کسی اور اقلیت نے بھی اس قدر نرم مطالبے کیے ہیں جس قدر کوئی