مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 146
146 فورٹین ڈیمانڈز آف مسلمز (Fourteen Demands Of Muslims) منتقمانہ مقابلہ کی دھمکی دے رہی ہیں جن کی ہندوؤں کو کچھ پرواہ نہیں۔ہندوؤں کو یہ پرانا خیال دل سے نکال دینا چاہئے کہ مسلمانوں کی مدد کے بغیر سوراج حاصل ہونا محال ہے۔“ ڈاکٹر مونجے صاف لفظوں میں ظاہر کر رہے ہیں کہ ہندو، مسلمانوں کو ان کا حق دینے کو تیار نہیں ہیں۔وہ اپنے زور سے انگریزوں اور مسلمانوں کو درست کر کے رکھ دیں گے اور مسلمانوں سے کوئی سمجھوتا کرنے کے لئے تیار نہیں ہونگے۔جن لوگوں کا شروع میں یہ حال ہے ، ان کا انجام کیا ہو گا ؟ ایک اور ہند ولیڈر لالہ ہر دیاں ایم۔اے جن سے یورپ وامریکہ کے لوگ خوب واقف ہیں، لکھتے ہیں :۔” جب انگلستان کچھ عرصہ بعد ہوم رول (Home Rule) یعنی 75 فیصدی سوراجیہ ہمیں پیش کرے تو وہ ہند و قومی دل کے ساتھ عہد و پیمان کرے۔“ پھر یہی صاحب لکھتے ہیں: ”ہندو سکھٹن کا آدرش یہ ہے کہ ہندو قومی سنتھاؤں انسٹی چیوشنز (Institutions) کی بنیادوں پر ہند و قومی ریاست قائم کی جائے۔ہند و قومی سنتھا ئیں یہ ہیں۔مثلاً سنکرت بھاشا، ہندی بھاشا، ہندو قوم کا انتہاس ، ہندو تہوار ، ہندومہاپرشوں کا سمرن، ہندوؤں کے دیش بھارت یا ہندوؤں کے ستھان کا پریم، ہندو قوم کے ساہتیہ کا پریم وغیرہ وغیرہ۔پھر جو لوگ آج کل کے نیم عربی۔نیم ایرانی مسلمانوں کو قومی تحریک میں خواہ مخواہ شامل کرنا چاہتے ہیں، وہ اس صداقت کو نہیں سمجھتے کہ ہر ایک قومی ریاست پرانی قومی سنتھاؤں پر قائم کی جاتی ہے جس سے لوگوں میں ریگا نگت کا بھاؤ پید اہوتا ہے۔“ پھر یہی صاحب لکھتے ہیں : ”جب ہندو سنگھٹن کی طاقت سے سوراجیہ لینے کا وقت قریب آئے گا۔تو ہماری جو ، نیتی (پالیسی) عیسائیوں اور مسلمانوں کی طرف ہو گی اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔اس وقت باہمی سمجھو تا وغیرہ کی ضرورت نہیں ہو گی بلکہ ہندومہاسبھا صرف اپنے فیصلہ کا اعلان کرے گی کہ نئی ہندوریاست میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے کیا فرائض اور حقوق ہونگے اور ان کی شدھی کی کیا شرائط ہو نگی۔“ (ملاپ لاہور 25 مئی 1925ء)