مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 145
145 کے متواتر اعلان کئے ہیں، اس میں انہوں نے مسلمانوں کی خیر خواہی نہیں کی بلکہ مذکورہ بالا اعلان کی موجودگی میں ان کے موت کے وارنٹ (Death Warrant) پر دستخط کئے ہیں۔یہی ملکی خادم ساگر صوبہ سی۔پی میں اپنی تقریر میں یہ بھی بیان کرتا ہے۔”ہندوؤ! کھٹن کرو اور مضبوط بنو۔اس دنیا میں طاقت کی پوجا ہوتی ہے اور جب تم مضبوط بن جاؤ گے تو یہی مسلمان خود بخود تمہارے قدموں پر اپنا سر جھکا دیں گے۔جب ہم ہندو ھن کے ذریعہ سے خاطر خواہ طور پر مضبوط ہو جائیں گے۔ٹھٹن تو مسلمانوں کے سامنے یہ شرائط پیش کریں گے۔(۱) قرآن کو الہامی کتاب نہیں سمجھنا چاہئے۔۔۔۔(۲) حضرت محمد کو رسول خدا نہ کہا جائے۔(۳) عرب وغیرہ کا خیال دل سے دور کر دینا چاہئے۔(۴) سعدی و رومی کی بجائے کبیر و تلسی داس کی تصانیف کا مطالعہ کیا جائے۔(۵) اسلامی تہواروں اور تعطیلیوں کی بجائے ہندو تہوار تعطیلات منائی جائیں۔(1) مسلمانوں کو رام و کرشن وغیرہ دیوتاؤں کے تہوار منانے چاہئیں۔(۷) انہیں اسلامی نام بھی چھوڑ دینے چاہئیں اور ان کی جگہ رام دین، کرشن خاں 66 وغیرہ نام رکھنے چاہئیں۔(۸) عربی کی بجائے تمام عبادتیں ہندی میں کی جائیں۔اخبار وکیل امر تسر 9دسمبر 1925ء) پھر یہی صاحب فرماتے ہیں: ”بھارت ورش کی قومی زبان ہے۔سنسکرت۔عربی اور فارسی کومیں بھارت ورش سے باہر کر دینا چاہتا ہوں۔“ اس عبارت سے ظاہر ہے کہ ہند و سوراج میں مسلمانوں سے یہ سلوک کرنا چاہتے ہیں کہ ان سے ان کا مذہب، ان کا تمدن اور ان کی زبان اور ان کے نام تک چھڑوانا چاہتے ہیں۔شاید کوئی کہے کہ ستیہ دیو گو کتنے ہی بڑے آدمی ہوں لیکن ہندو قوم کے چوٹی کے لیڈر نہیں اس لئے میں چند چوٹی کے لیڈروں کے حوالہ جات نقل کرتا ہوں۔ڈاکٹر مونجے جو راؤنڈ ٹیبل کا نفرنس (Round Table Conference) کے نما ئندے مقرر ہوئے ہیں۔ہندوؤں کو یوں نصیحت کرتے ہیں۔”ہند واگر سنگھٹ ہو جائیں تو انگریزوں اور ان کے مسلمان پٹھوؤں کوکسی دوسرے کی مدد کے بغیر نیچا دکھا کر سوراج حاصل کر سکتے ہیں۔مسٹر جناح کی تجاویز