مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 144 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 144

144 بھی محسوس نہیں کرتے۔میں جانتا ہوں کہ ان کا غصہ اس خوف کے نیچے دب رہا ہے جو انگریزی عملداری نے پیدا کر دیا ہے۔مگر ایک ہندو بھی ہندوستان کے طول و عرض میں ایسا نہیں ہے جو ایک دن اپنی سر زمین کو گاؤ کشی سے آزاد کرانے کی امید نہ رکھتا ہو۔اور ہندو مذہب کو جیسا کہ میں جانتا ہوں، اس کی روح کے سراسر خلاف عیسائی یا مسلمان کو بزور شمشیر بھی گاؤ کشی چھوڑنے پر مجبور کرنے سے اغماض نہ کرے گا۔( سٹیٹسمین کلکتہ) مسٹر گاندھی کے اس بیان کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ یہ جذبہ تعصب صرف چند جاہل افراد میں ہے اور اس کی زیادہ پر واہ نہیں کرنی چاہئے۔اس امر کے ثابت کرنے کے بعد کہ زندگی کے ہر شعبہ میں مسلمانوں کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے اور مسلمانوں کے لئے اکثریت نے عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے۔جس کی موجودگی میں صرف ایک دوسرے پر اعتبار کرنے کو حفاظت کا ذریعہ نہیں سمجھا جا سکتا۔اب میں یہ بتا تا ہوں کہ ہندوؤں کے آئندہ ارادے اقلیت کے متعلق کیا ہیں۔کیونکہ جب یہ ثابت ہو جائے کہ ایک اکثریت پہلے سے ارادہ کر کے آزادی کے حصول کو اقلیت کی محبوب چیز کے قربان کرنے کا ذریعہ بنانا چاہتی ہے تو یہ امید کی جا سکتی ہے کہ اس کا نقطہ نگاہ کسی قریب کے مستقبل میں بدل جائے گا۔ہندوؤں کے مشہور قومی لیکچر ار ریتہ دیو صاحب اپنے ایک لیکچر میں بیان کرتے ہیں: ”میر اخیال ہے کہ مسلمانوں کا مستقبل اگر وہ قوم پرست نہ بنیں، بڑے خطرہ میں رہے گا۔ہندوستان کے مسلمان اگر اپنے مذہبی۔۔۔۔دیوانہ پن میں ڈوبے رہے (یعنی ہندونہ ہو گئے ) تو ان کا کام صرف بدیشی گورنمنٹ کی مدد کر کے ہندوستان کو غلام رکھنا رہ جائے گا۔جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ کسی آزادی کے موقع پر ملک کے سب لوگ ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی ہستی بڑے خطرے میں پڑ جائے گی۔مسلمانوں کی نجات کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ قوم پرستی کا ہے۔“ اخبار وکیل امر تسر 9دسمبر 1925ء) اس اعلان کے لفظ کسی تشریح کے محتاج نہیں۔آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کو صرف اسلام کے مجرم کی ہی سزا نہیں ملے گی بلکہ انگریزی حکومت سے تعاون کی بھی سزا ملے گی اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ لارڈارون (Lord Irwin) اور مسٹر بن (Mr۔Ben) نے جو پچھلے دنوں مسلمانوں کی وفاداری