مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 140
140 ترک موالات کے زمانہ میں انگریزی کپڑے اور ہر قسم کے مال کا بائیکاٹ کیا گیا۔ہر شخص جس کے اندر ذراسی قومی غیرت و حمیت بھی تھی، اس نے دیسی کھڈی کا کپڑا پہنا شروع کر دیا۔گھر گھر چرنے چلائے جاتے تھے اور قومی اسکولوں میں بھی ان کا چلانا سکھایا جاتا۔گویا کہ چر خا قومی نشان بن گیا تھا۔مدرسہ اسلامیہ کے طلباء نے بھی چرخوں کے لئے اصرار کیا نیز درخواست کی سالانہ امتحان 15 رجب کی بجائے یکم شعبان سے لیا جائے۔“2 جناب آزاد نے مدرسہ کے مہتمم عبد الرزاق ملیح آبادی کو اخراجات کے بارے میں یقین دلایا کہ ہر سیاسی اور غیر سیاسی جماعتوں اور انجمنوں میں ایک مخصوص فنڈ ہوتا ہے جس سے جماعت اور اس کے مقاصد کی نشر واشاعت ہوتی ہے۔اس کے لئے جماعت ایک شعبہ قائم کرتی ہے۔اس کا اسٹاف مقرر کیا جاتا ہے اور اس پر اخراجات ہوتے ہیں۔۔۔۔اگر آپ کانگرس کے ان مقاصد سے متفق ہیں تو آپ کو اس کا معاوضہ قبول کرنے میں کوئی تکلیف نہیں ہونا چاہئے۔جس پر ملیح آبادی قائل ہو گئے۔3 عالمی سوشلسٹوں کے نام لینن کا پیغام 1920ء ہی وہ سال تھا جس میں آزاد صاحب آل انڈیا کانگرس کی ہائی کمان کے مطابق ایجی ٹیشن پھیلانے کے ساتھ ساتھ اپنے مدرسہ اسلامیہ کی تعمیر کر رہے تھے اور اسی سال ستمبر 1920ء میں لینن نے سوویٹ آذربائیجان کے دارالسلطنت باکو میں مشرقی ممالک کے سوشلسٹ نمائندوں کی پہلی کا نفرنس کا انتظام کیا۔کا نفرنس میں ترکی، مصر اور ایران کے علاوہ ہندوستان کے مندوب بھی پورے جوش و خروش سے شامل ہوئے۔۔۔۔کانفرنس نے ہندوستان اور دوسرے مشرقی ممالک کے سوشلسٹ رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ متحد ہو جائیں اور امپر یلزم اور نو آبادیاتی نظام سے آزادی کی جدوجہد تیز کر دیں۔4 جنوبی افریقہ میں انقلابی سوشلزم کے نامور مورخ اور عالمی شہرت کے حامل سوشلسٹ رہنما کامریڈ ٹیٹد گرانٹ نے روس کے انقلاب سے رڈ انقلاب تک کی تاریخ لکھی ہے۔جس کا ترجمہ ابوفراز نے کیا ہے۔پاکستان کے بلند پایہ دانشور جناب لال خاں صاحب اس کے اردو ایڈ یشن کے دیباچہ میں لکھتے ہیں :- ”دنیا کے 7 دوسرے ممالک کی طرح بر صغیر پاک و ہند پر بھی بالشوک انقلاب نے بڑے گہرے اثرات مرتب کئے۔اقبال نے بھی مارکس کو ایک ایسا پیامبر قرار