مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 141
141 دے دیا جس کے پاس کتاب تو تھی مگر نبوت نہیں تھی۔اس نے ”لین خدا کے حضور میں “ جیسی بڑی نظم لکھی۔حسرت موہانی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے جنرل سیکر ٹری رہے۔سوشلزم کا نظر یہ بڑی تیزی سے برصغیر میں پھیلا اور اس نے یہاں کی ثقافت، شاعری اور سیاست کو بڑا متاثر کیا۔برطانوی سامراج کے خلاف قومی آزادی کی تحریک میں اشترا کی نظریئے دیکھتے ہی دیکھتے نمودار ہوئے۔روس میں ہونے والی تبدیلیاں کسی معجزے سے کم نہ تھیں۔دنیا بھر کے محنت کشوں اور مظلوموں کی طرح بر صغیر کے محنت کشوں کے لئے اکتوبر انقلاب صدیوں کی محکومی اور ذلت سے نجات پانے کے لئے ایک مشعل راہ تھا۔برطانوی سامراج کے جبر کے باعث بر صغیر کے بہت سے سیاسی کارکن سوویٹ یونین گئے جہاں انہیں خوش آمدید کہا گیا۔یہ ان کے لئے سوشلسٹ تعلیم حاصل کرنے کا اہم موقع تھا۔اس سے بر صغیر میں اشتراکی نظریئے کی ترویج کا عمل تیز تر ہو گیا۔جب 1919ء میں راولٹ ایکٹ کے خلاف ایک عوامی بغاوت ابھری تو 20 مارچ 1920ء کے ”دی ٹائمز لنڈن“ نے یہ سرخی لگائی ”ہندوستان میں انقلاب لانے کا بالشویک منصوبہ۔1920ء کی نارتھ ویسٹ ریلوے کی ہڑتال پر برطانوی پر لیس چلا اٹھا کہ اس ہڑتال کو یقینی طور پر بالشویک کروا ر ہے ہیں۔اس رجعتی تاریخ دان ایم۔آر۔مانی کو اپنی کتاب میں لکھنا پڑا۔1920ء کی دہائی کے آغاز میں ہندوستانی دانش اور جذبات کا موسم کمیونزم کے لئے نہایت ہی ساز گار تھا۔بر صغیر میں ابھرنے والی تحریک کا جو رشتہ بالشویک انقلاب سے براہ راست بنتا تھا اس کا ذکر لینن نے اپنی کئی تحریروں میں کیا تھا۔لینن ایک جگہ لکھتا ہے مشرق کے عوام کی یہ انقلابی تحریک اسی صورت میں فعال ہو سکتی ہے اگر یہ سامراج کے خلاف ہماری بین الا قوامی جد وجہد سے براہ راست منسلک ہو جائے۔“ اس سے واضح ہے کہ لینن ہندوستان میں قومی آزادی کی تحریک کو طبقاتی جنگ کا حصہ سمجھتا تھا اور اس کو عالمی سوشلزم کی لہر میں اہم عصر کارتبہ دیتا تھا۔کیونکہ قومی آزادی کا حصول سوشلسٹ انقلاب کے بغیر ممکن نہ تھا، ہندوستان کے ابتدائی مار کس رہنما لین کی اس پوزیشن سے اتفاق رکھتے تھے۔5 لینن کارل مارکس کا سچا جانشین تھا۔اسی لئے بر سر اقتدار آنے سے قبل بھی مار کس نظریہ کے