مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 123
123 جو بعد ازاں پارٹی کی ہدایات کے مطابق سالہا سال تک روسی سوشلسٹوں کے مہمان رہے اور مسلمانوں کو سوشلسٹ بنانے کی مذہبی تجاویز پر غور و فکر میں منہمک رہے اور اشتراکیت کے پر جوش مبلغ بن کر وطن لوٹے۔جناب سندھی صاحب کی ذاتی ڈائری کے بہت سے خفیہ اوراق مولوی حسین احمد مدنی نے اپنی کتاب نقش حیات “ میں شائع کر دیئے ہیں جن سے غدر پارٹی کی شورش کے اصل حقائق سے پردہ اٹھ جاتا ہے۔جناب سندھی صاحب کی ذاتی ڈائری سے قطعی طور پر شہادت ملتی ہے کہ انہیں ابو الکلام آزاد صاحب کے ذریعہ غدر پارٹی کی سیاسیات کے نشیب و فراز کا علم ہوا اور ان کے ذریعہ انہیں اس پارٹی کے اغراض و مقاصد اور طریق کار سے پوری طرح شناسائی حاصل ہوئی (صفحہ 367) ازاں بعد وہ یاغستان کی شورش میں شریک ہو گئے۔بعد ازاں پہلے افغانستان گئے اور پھر جرمنی پہنچے جس میں سوشلزم کا چرچا تھا اور جہاں برلن میں ہندوستانیوں نے کانگرس کی ایک شاخ انڈین نیشنل پارٹی کے نام سے قائم کر رکھی تھی جس میں راجہ مہندر پرتاپ، ہر دیال اور مولوی برکت اللہ وغیرہ شامل تھے۔(صفحہ 570) سندھی صاحب نے ہند و ممبروں سے خاص طور پر تبادلہ خیالات کیا۔اور انہوں نے ہندوستانی مشن کو بتایا کہ مولانا محمد علی جوہر اور مولانا ابوالکلام نے اپنا اختیار مہاتما گاندھی کے سپر د کر رکھا ہے (صفحہ 577 ) سندھی صاحب کا بیان ہے راجہ مہندر پرتاپ اور مولوی برکت اللہ نے مل کر ہندوستان کے لئے ایک عارضی حکومت کی بنیاد ڈالی۔ہمارے ساتھ ان نوجوانوں کے ساتھ دوسکھ بھی تھے جو غدر پارٹی کے ممبر تھے۔“ (صفحہ 594) سندھی صاحب لکھتے ہیں۔”ہم نے کابل کانگرس کمیٹی بنائی جس کا روح رواں ڈاکٹر نور محمد تھا۔اس کا الحاق کانگرس میں منظور ہو گیا۔ڈاکٹر نور محمد ہماری کانگرس کمیٹی کا افسر تھا۔مہاتما گاندھی اور کانگرس کے نوجوان ممبر اسے جانتے تھے۔۔۔۔ہماری کانگریس کمیٹی سب سے پہلی وہ کمیٹی ہے جو برٹش امپائر سے باہر قائم ہوئی تھی۔“ (صفحہ 595) جناب سندھی صاحب نے اپنی ڈائری کے آخر میں یہ راز سربستہ بھی طشت از بام کر دیا کہ وہ ماسکو میں ہندوستانی اشترا کی پارٹی کے ہاں مہمان ہو گئے۔چنانچہ فرماتے ہیں: ” سوویٹ ایشیا سے تعلقات کی ابتداء اعلیٰ حضرت امیر امان اللہ کی اجازت اور مصلحت سے بروئے کار آئی جس میں راجہ مہندر پرتاپ نے کافی حصہ لیا۔انہیں کی