مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 122
122 دسویں فصل بین الا قوامی سوشلسٹ پارٹیوں سے استمداد اب غدر پارٹی اور ہندو کا نگرس کو یہ منصوبہ بنانا پڑا کہ نہ صرف مسلمان حکومتوں بلکہ بین الا قوامی سوشلسٹ قوتوں سے براہ راست رابطے کر کے اُن سے ہندوستان کی تحریک آزادی کے لئے (جو مسلم مفاد کے صریح مخالف ہونے کے باعث تحریک بربادی تھی) امداد حاصل کی جائے اور 19 فروری 1915ء کو فیروز پور کی ایک رجمنٹ کے اسلحہ خانہ اور میگزین (Magazine) پر قبضہ کر کے غدر پارٹی کی حکومت کا اعلان کر دیا جائے۔اس پر حکومت کا صدر راجہ مہندر پرتاپ کو بنایا گیا اور اس کے سالارِ اعلیٰ دیوبندی مولوی محمود الحسن اور مولوی عبید اللہ سندھی مقرر کئے گئے۔1 تا مسلم ممالک سے آزادی کے نام پر امد اولی جاسکے۔غدر پارٹی نے اس بغاوت کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے مولوی محمود الحسن کو حجاز بھیجا تا تر کی سلطنت سے جس کا مدینہ منورہ پر قبضہ تھا، ہندوستانیوں کے انقلاب آزادی سے متعلق پارٹی کی جدوجہد کا ذکر کریں اور باضابطہ طور پر امداد کے طالب ہوں۔ان دونوں انقلابیوں کو غدر پارٹی نے اپنی خفیہ مگر فرضی حکومت کے سالار اعلیٰ کا عہدہ عطا فرما دیا تھا۔چنانچہ محمود الحسن نے مدینہ میں حکومت ترکیہ کے وزیر جنگ انور پاشا اور سویز سینا اور حجاز کے محاذ پر متعین ڈویژن کے کمانڈر جمال پاشا سے ملاقات کی۔انہوں نے یقین دلایا کہ ہم اہل ہند کی آزادی کے لئے پوری جد وجہد عمل میں لائیں گے اور ہندوستانیوں کی ہر ممکن امداد واعانت کریں گے۔دو تین دن کے بعد ان ترکی لیڈروں کی دستخطی تحریرات بھی پہنچ گئیں۔جن میں ہندوستانیوں کے مطالبہ آزادی کے استحسان اور ان سے اس مطالبہ میں ہمدردی کو ظاہر کرتے ہوئے ان کی اس بارہ میں ہر ممکن معاونت کا وعدہ تھا۔2 لیکن یہ سارا راز فاش ہو گیا اور محمود الحسن صاحب انگریزی مالٹا میں قید کر لئے گئے۔رہائی کے بعد بمبئی پہنچے جہاں گاندھی کی تحریک خلافت کے کارکنوں، دیو بند کے علماء اور غدر پارٹی سے ہمدردی رکھنے والے مقامی باشندوں نے اُن کا پر جوش استقبال کیا۔بمبئی میں قیام کے دوران مہاتما گاندھی سے بھی مولوی عبد الباری فرنگی محل کے مکان پر خفیہ ملاقات ہوئی جس کے بعد وہ بذریعہ ریل دیو بند کے لئے روانہ ہوئے تو رستہ میں دہلی ، غازی آباد، میرٹھ شہر ، میر ٹھ چھاؤنی، مظفر نگر اور دیو بند کے عوام جن میں (مسلم و غیر مسلم ) عوام نے ان کا پر جوش سواگت کیا۔3 غدر پارٹی کی طرف سے محمود الحسن کے علاوہ مولوی عبید اللہ سندھی کو کابل اور ٹرکی بھیجوا دیا؟