مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 121
121 کے لکھیا اور سر داران قبائل لوٹ گئے، ادھر عوام امیر کابل کے پروپیگینڈے کی وجہ سے اپنے جوش و خروش کو قائم نہ رکھ سکے۔بالآخر جماعت کو چند مہینوں کے بعد 4" شکست اٹھانی پڑی اور انتشار ہو گیا۔4 امان اللہ خاں والئی افغانستان (حکومت 1919ء تا 1929ء) کے دور میں کابل ہندوستان کے انقلابیوں اور روس کے کمیونسٹوں کا پراسرار مرکز بن گیا۔چنا نچہ جناب آباد شاہپوری اپنی کتاب روس میں مسلمان قومیں“ کے حاشیہ صفحہ 134 پر تحریر فرماتے ہیں: امان اللہ خاں والئی افغانستان) کے زمانے میں کابل کمیونسٹ ایجنٹوں کی سرگرمیوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ان کا سر غنہ میخائیل براؤن تھا جو زار کا ڈپلومیٹ رہ چکا تھا اور اب کمیونسٹوں کے چڑھتے سورج کی پوجا کرنے لگا تھا۔ان ایجنٹوں کا ہندوستان کے آزادی پسندوں سے جو کابل میں مقیم تھے، گہرا ربط تھا۔میخائیل کا ایک خط برطانوی انٹیلی جنس کے ہاتھ لگا جس میں اُس نے بالشویک حکومت کے پراپیگنڈا محکمہ برائے مشرقی کو لکھا تھا کہ کابل میں مقیم ہندوستانی انقلابیوں کے ساتھ گہرے روابط استوار کرنے میں خاصی کامیابی ہو رہی ہے۔( آرنلڈ فلیچر صفحہ 195)۔بالکل ابتدائی دنوں میں برطانوی انٹیلی جنس کے ہاتھ دو خطوط لگے۔ایک امان اللہ خاں 5 کا خط جو اس نے لینن کے نام لکھا تھا اور دوسرا محمود طرازی کا جو اس نے بالشویک وزیر خارجہ کو تحریر کیا تھا۔دونوں خطوط سے آرنلڈ فلیچر کے بقول بالشویک حکومت کے ساتھ اخلاص اور تپاک کا اظہار ہو تا تھا۔“(ص195) حواشی: 1 نقش حیات جلد دوم صفحہ 627۔2 نقش حیات جلد دوم صفحہ 557۔4 3 ایضاً صفحہ 562۔ایضاً جلد دوم صفحہ 604-605۔ولادت 1892ء۔حکومت سے برطرفی جنوری 1929ء۔وفات 1960ء۔5