مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 120
120 اگست 1914ء میں پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی۔چونکہ بنگال کی طرح یاغستان بھی بغاوت کا مرکز بن گیا اس لئے انگریزی فوج نے نام نہاد مجاہدین اور در پر دہ غدر پارٹی کے ایجنٹوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیا جس پر انہوں نے فریاد کی کہ :- ” جب تک کسی منظم حکومت کی پشت پناہی نہ ہو ہماری شجاعت اور جانبازی بیکار ہے۔3" یاغستان میں غدر پارٹی اور کانگرس کے انقلابیوں کی شرمناک شکست کا دوسرا اور سب سے بڑا سبب افغانستان حکومت کی زبر دست مخالفت اور ان کے خلاف اسلام ہتھکنڈوں کے خلاف جارحانہ کارروائی تھی جس کی تفصیل دیوبندی انقلابی حسین احمد مدنی کے قلم سے درج ذیل کی جاتی ہے :- پیش بندی کے طور پر انگریزی فوجیں قدیمی سرحدوں سے آگے یاغستان میں میلوں داخل ہو گئیں اور متعدد مقامات پر قبضہ کر لیا۔مجاہدین کب تک صبر کر سکتے تھے۔انہوں نے نہایت جوش اور جوانمردی سے یکے بعد دیگرے ایسے زور دار متواتر حملے کئے کہ پلٹنوں کی پلٹنیں گاجر مولی کی طرح کاٹ ڈالیں اور پھر فوجیں آگے بڑھ گئی تھیں۔ان کی امداد اور رسد بندی کر دی اس طرح ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کا وارا نیارا ہو گیا اور سامان تو کروڑوں کا تلف ہو گیا۔۔۔۔امیر حبیب اللہ خاں کو درمیان میں ڈالا گیا اور سر داران قبائل اور مجاہدین کو توڑا اور زر پاشی کی سبیل اختیار کر کے بچی کبھی سپاہ کو واپس لانا پڑا۔جس کی تفصیل یہ ہے کہ اشرفیوں اور روپیوں کی بھر مار کر کے یاغستان کے سرداروں کو توڑ لیا اور یہ پروپیگینڈا کرایا کہ جہاد بغیر بادشاہ کے شریعت اسلامی میں درست نہیں۔مسلمانوں کے بادشاہ ان اطراف میں امیر کابل اللہ خاں ہیں۔تم ان کے ہاتھ پر بیعت جہاد کر کے منظم ہو جاؤ۔جب امیر صاحب اٹھیں اور علم جہاد بلند کریں، سب ان کے ساتھ ہو کر جہاد کرنا۔سر دار نائب السلطنت امیر نصر اللہ خاں اس کے ناظم بنائے گئے اور تمام بیعت نامہ کے کاغذات حبیب ان کے پاس جمع ہونے لگے۔اس پروپیگنڈے پر پانی کی طرح روپے بہائے گئے۔نتیجہ یہ نکلا کہ ”مجاہدین کی قوت کمزور ہو گئی۔چند لڑائیوں کے بعد جن میں ”مجاہدین“ کو کامیابی اور انگریزوں کو ناکامی ہوئی تھی۔پانسہ پلٹ گیا اور ادھر تو ”مجاہدین رسد اور کارتوس کے خرچ ہو جانے کی وجہ پورے اجتماع کو سنبھال نہ سکے تھے۔ادھر دیہاتوں