مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 109 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 109

109 جس قدر میں سمجھے ہوا تھا۔بالآخر یہ اندرونی تکلیف یہاں تک بڑھی کہ میں بیمار ہو گیا۔غذا بند ہو گئی۔نیند اُچاٹ ہو گئی۔اسی اثنا میں میں نے ماڈرن فلاسفی اور سائنس کی مختلف شاخوں کا مطالعہ کیا۔جس قدر مطالعہ مشرقی زبانوں کے تراجم سے کر سکتا تھا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مذہب کی طرف سے میری بے اطمینانی اور زیادہ گہری ہو گئی۔اب مجھ پر وہ دروازہ کھلا جو اس راہ میں ہمیشہ کھلا کرتا ہے۔یعنی مذہب اور عقل کی تطبیق واتحاد کا طریقہ۔اس کے بھی متعد د اسکول ہیں۔میں نے سب کا مطالعہ کیا، اور اس سے اتنا ضرور ہوا کہ عارضی سکون مجھے ہو گیا۔اسی زمانہ میں ، میں نے سر سیّد احمد خان مرحوم کی کتابوں کا مطالعہ کیا جن کی نسبت سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے موجودہ زمانہ میں مذہب اور ماڈرن سائنس کو ملانے کے لئے ایک نئے اسکول کی بنیاد ڈالی ہے۔مجھ پر ان کی تصنیفات کا بہت اثر ہوا۔حتی کہ کچھ دنوں تک میرا یہ حال رہا کہ میں بالکل اُن کا مقلد اور پیر و ہو گیا تھا۔مگر یہ وقفہ عارضی تھا۔بہت جلد مجھے معلوم ہو گیا کہ یہ منزل مذہب کی طرف لے جانے والی نہیں ہے۔بلکہ مذہب سے انکار کی ایک نرم اور ملائم صورت ہے۔آخری نتیجہ میرے دل و دماغ پر حاوی ہو گیا تھا، یعنی گو میں زبان سے صاف اقرار نہیں کرتا تھا لیکن میرے اندر قطعی انکار والحاد کی آواز گونج رہی تھی۔میں اب ایک پکا دہر یہ ہو گیا تھا۔میٹر یلیزم (Materialism) اور ریشنلزم (Rationalism) کے اعتقاد پر میرے اندر فخر و غرور تھا۔اور مذہب کے نام میں جہل و تو ہم کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔تاہم وہ چیز کہاں تھی جس کی ڈھونڈھ میں نکلا تھا؟ دل کا اطمینان ؟ وہ تو اب اور زیادہ دور ہو گئی۔میرے اضطراب کی اندھیاری میں تسلی کی ایک ہلکی کرن بھی دکھائی نہیں دیتی تھی۔14 برس سے لے کر 22 برس کی عمر تک میرا یہی حال رہا۔میر ا ظاہری روپ ایک ایسے مذہبی آدمی کا تھا جو مذہب کو عقل و علم کے ساتھ ساتھ چلانا چاہتا ہے۔لیکن میرے اندر اعتقاد میں قطعی الحاد تھا اور عمل میں قطعی فسق۔یہی منزل آخری مایوسی کی منزل تھی۔“ ذکر آزاد “۔ص260-1257