مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 108 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 108

108 آٹھویں فصل آزاد دہریت کی آغوش میں یہ وہ زمانہ تھا جبکہ جناب آزاد نے حیرت انگیز طور پر اعتراف کیا ہے کہ وہ اس وقت پکے دہر یہ ہو چکے تھے اور اسلامی اقدار و تعلیمات کو پس پشت ڈال کر ہند وسوشلسٹوں کی تحریک بغاوت کا ہر اول دستہ بن گئے ، چنانچہ لکھتے ہیں: زیادہ سے زیادہ میری تیرہ برس کی عمر تھی کہ میرا دل اچانک اپنی موجودہ حالت اور ارد گرد کے منظر سے اُچاٹ ہو گیا اور ایسا محسوس ہونے لگا کہ میں کسی اچھی حالت میں مبتلا نہیں ہوں۔یہ بے اطمینانی بڑھتی گئی حتیٰ کہ مجھے اُن ساری باتوں سے جولوگوں کی نظروں میں انتہا درجہ عزت واحترام کی باتیں تھیں، ایک طرح کی نفرت ہو گئی۔چند دنوں کے بعد یہ جذبہ ایک دوسرے رخ پر بہنے لگا۔اپنی حالت کے احتساب نے اپنے عقائد وافکار کے احتساب پر توجہ دلائی اور اب جو میں نے اپنے مذہبی عقائد کا جائزہ لیا تو اس میں بجز آبائی تقلید ، دیرینہ رسم پرستی اور موروثی اعتقاد کے اور کچھ نہ تھا۔“ دیرینہ رسمی عقائد و آبائی تقلید ، خدا کی حقیقت اور مختلف مذاہب کے باہمی اختلافات۔یہ تین (ذکر آزاد“۔ص256) سوالات تھے جن کے حل میں مولانا سر گرداں و پریشان تھے۔آگے چل کر لکھتے ہیں :۔” یہ تین سوال تھے جو 14 برس کی عمر میں مجھے پر اس طرح چھا گئے تھے کہ خون اور گوشت کی جگہ میرے اندر صرف انہی کی گونج بھری ہوئی تھی۔گرہ کو جس قدر کھنچا جائے اتنا ہی اور زیادہ اُلجھ جاتی ہے۔اس طرح میں جس قدر حل کرنے کی کوشش کر تا تھا، اتنا ہی زیادہ اُلجھاؤ بڑھتا جاتا تھا۔میں نے ہر طرح کی کتابوں کا مطالعہ کیا۔مختلف مذہبوں کی کتابیں بار بار دیکھ ڈالیں۔میں اس وقت بمبئی میں تھا۔وہاں مجھے متعد دعیسائی، یہودی، پارسی، بہائی، ناسک اور ہند وعالموں سے ملنے اور بحث ومباحثہ کا موقعہ ملا لیکن ان کی باتیں میری الجھن کو اور زیادہ کرتی تھیں۔اُن کے جوابات اور مباحث سُن کر مجھے معلوم ہو تا تھا کہ میری پریشانی اس سے کہیں زیادہ ہونی چاہیے