مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 94
94 ہندوؤں کی مخالفت 1903ء میں جب ہندوؤں کو صوبے کی تقسیم کی تجویز کا علم ہوا تو انہوں نے احتجاج کا ایک طوفان کھڑا کر دیا۔اس احتجاج کا مرکز کلکتہ تھا۔اس نئے مسلم اکثریتی صوبے میں ہندوؤں کو اپنی اجارہ داری کا خاتمہ نظر آیا۔کلکتہ کے ہند و وکلاء کو یہ خوف لاحق ہو گیا کہ ڈھاکہ میں ہائیکورٹ کے قیام کے بعد نہ صرف ان کی وکالت متاثر ہو گی بلکہ ان کے سیاسی مفادات کو بھی نقصان پہنچے گا۔کلکتہ کے بنگالی اخبارات جن کے مالک تمام تر ہند و تھے ، اس مخالفت میں پیش پیش تھے کیونکہ ان کو یہ تشویش لاحق ہو گئی کہ ڈھاکہ سے مسلم اخبارات کے اجراء سے ان کی اپنی اشاعت متاثر ہو گی۔اخبار دی بنگالی ( ایڈیٹر سریندر ناتھ بیز جی) اور امرت بازار پتریکا (ایڈیٹر ایس کے گھوش) اس مخالفت میں پیش پیش تھے۔ہندوز میندار اور جاگیر دار جن کی زمینیں تو مشرقی بنگال میں تھیں لیکن وہ خود کلکتے میں رہائش پذیر تھے، کو تقسیم کی صورت میں اپنی سیاسی اور جاگیر دارانہ برتری کا خاتمہ نظر آیا۔غرض ہندوؤں کا ہر طبقہ جس کا مفاد جس قدر زیادہ خطرہ میں پڑتا نظر آتا تھا وہ اتنا ہی تقسیم کی مخالفت میں سرگرم تھا۔اصل میں تقسیم بنگال سے تمام ہندو قوم کا مفاد خطرے میں پڑ گیا تھا جو تقسیم سے بدیں وجہ خائف تھے کہ اب اس صوبہ کے مسلمان برسوں سے غصب شدہ حقوق کی بازیابی کے لیے جد وجہد کریں گے۔اسی خطرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قاسم بازار کے ایک ہندو لیڈر مہندرا چند ر نے تقسیم کے خلاف تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ” اس نئے صوبے میں مسلمانوں کی اکثریت ہو گی اور بنگالی ہندو اقلیت میں ہو جائیں گے۔ہم اپنے ہی شہر میں اجنبی بن جائیں گے۔میں اپنی قوم کے بارے میں تشویش محسوس کرتا ہوں۔“ ہندوؤں نے 16 اکتوبر کا دن یوم سیاہ کے طور پر منایا۔کلکتہ میں ہندوؤں نے سیاہ کپڑے پہنے۔اپنے ہاتھوں میں خاک ملی، کاروبار بند کر دیا گیا، مرن برت رکھے گئے، سر بیندر ناتھ بیز جی نے تقسیم کو ”بم کا گولہ پھٹنے “ سے تشبیہ دی۔تقسیم بنگال کے خلاف تحریک کو موئثر بنانے اور مذہبی جذبات کو ابھارنے کے لیے کہا گیا کہ تقسیم سے ”کالی ماتا کی توہین ہوئی ہے اور تقسیم نے ”بنگالی نیشنلزم“ پر کاری ضرب لگائی ہے۔کانگریس جو کہ تمام ہندوستانیوں کی نمائندہ ہونے کی دعویدار تھی، تقسیم کی مخالفت میں پیش پیش تھی۔سودیشی تحریک ہندوؤں نے اپنی تحریک کو موثر بنانے کی خاطر 17 اگست 1905 کو سودیشی تحریک کا آغاز کیا