مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 39 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 39

39 دوسری فصل روس اور با بیت پاکستان کے نامور مصنف جناب بشیر احمد صاحب کے قلم سے اپریل 1993ء میں اسلامک سٹڈی فورم را ولپنڈی کے زیر انتظام ”بہائیت“ کے نام سے ایک فکر انگیز کتاب شائع ہوئی ہے۔فاضل مؤلف بابیت کی مسلح بغاوت اور بابیوں کے روس سے گہرے تعلقات کوبے نقاب کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: 1۔( بدشت کانفرنس جون 1848ء) ” اس اسلام دشمن اجتماع میں روسی پچھو بشر ومی نے شرکت نہ کی۔وہ خراسان کے شورش زدہ علاقے میں باہیوں کو مسلح کر رہا تھا۔“ (صفحہ 53) قلعہ شیخ طبرسی کے واقعہ سے ظاہر ہو گیا کہ بابی غیر ملکی اشارے پر ایران کی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے تھے۔انہوں نے بے گناہ لوگوں کا قتل عام کیا۔ان کے گھر جلائے اور غلہ لوٹا۔ہندوستان اور ترکی سے بھی ہم خیال لوگ بلوائے گئے۔باہیوں کو یہ بھی اُمید تھی کہ آذر بائیجان سے حکومت مخالف عناصر ان کی مدد کو آجائیں گے “ (صفحہ 55) 2۔”بابی بغاوت کے آغاز ہی سے روسی، فرانسیسی اور برطانوی لیگیشن اور ایرانی دربار کے امراء سفارتی اور دیگر طریقوں سے حکومت پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ باہیوں پر سختی نہ کی جائے“(صفحہ 57)1 3۔تاریخ نبیل کا بہائی مصنف لکھتا ہے کہ باب کے قتل کے دوسرے دن صبح سویرے روسی قونصل ایک ماہر نقاش کے ساتھ خندق پر پہنچا جہاں ”حضرت باب“ کا جسد پھینکا گیا تھا۔خندق کے اردگرد سخت پہرہ تھا۔اس نے ان دو پاک جسدوں کی اسی حالت میں نقاشی کرائی۔2 قرن بدیع کا مولف شرقی آفندی ایک ہمعصر مورخ کے حوالے سے لکھتا ہے کہ۔۔۔۔باب کے قتل کے واقع کو روس میں ایک خونیں ڈرامے کے طور پر پیش کیا گیا۔دیگر یورپی ممالک میں بھی اس کی تشہیر کی گئی۔“ (صفحہ 59) 4 بہاء اللہ معمولی پڑھا لکھا تھا۔اس نے بنیادی تعلیم گھر میں حاصل کی۔مذہب سے زیادہ لگاؤ نہ رکھتا تھا۔جاہ پرست ایرانی امراء کے طور طریقوں کے مطابق ایرانی دربار سے وابستہ ہو گیا۔1839ء–1842ء تک ایرانی دربار میں کافی رسوخ پیدا ہو گیا۔اسکے سیاسی عزائم کی تکمیل میں تہران