مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 31
31 دیکھو۔شراب عشق کی طاقت نہیں دیکھی تو ان کو دیکھ لو۔غالب، منصور اور خاتون عجم (قرۃ العین طاہرہ) نے حرم کی جان میں ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔یہ نغمات روح کو ثبات عطا کرتے ہیں۔ان کی گرمی کائنات کے اندر سے ہے۔اقبال کسی اور اسلام کا بانی اقبال نے ”بانگ درا میں خود تسلیم کیا ہے کہ سیالکوٹ میں اُن کی ہمسائیگی میں رہنے والے ایک بزرگ نے اُن کے مذہبی خد و خال کا قریبی جائزہ لیا تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ ان کا آئے کی لائی ہوئی شریعت پر قعطا ایمان نہیں بلکہ وہ کسی اور اسلام کے بانی“ ہیں۔چنانچہ لکھتے ہیں: سنتا ہوں کہ کافر نہیں ہندو کو سمجھتا ہے ایسا عقیده اثر فلسفه دانی سمجھا ہے کہ ہے راگ عبادت میں داخل مقصود ہے مذہب کی مگر خاک اڑانی کچھ عار اُسے حسن فروشوں سے نہیں ہے عادت یہ ہمارے شعرا کی ہے پرانی اس شخص کی ہم پر تو حقیقت نہیں کھلتی ہوگا یہ کسی اور ہی اسلام کا بانی26 اقبال کے ایک پرستار شورش کا شمیری صاحب نے سر اقبال صاحب کی زندگی کا ایک چونکا دینے والا واقعہ اپنی کتاب ”نور تن“ صفحہ 52-53 (مطبوعہ 1967ء) میں لکھا ہے جسے بھارتی صحافت نے بعد ازاں بڑے طمطراق سے شائع کیا۔شورش صاحب عبد المجید سالک صاحب مدیر ”انقلاب“ و مولف ذکر اقبال“ کا تذکرہ کرتے ہوئے رقمطراز ہیں۔” ایک واقعہ سنایا کہ مولانا گرامی لاہور تشریف لائے تو مجھے دفتر سے اٹھا کر علامہ اقبال کے ہاں لے گئے۔علامہ ان دنوں بازار حکیماں میں رہتے تھے۔علی بخش سے پتہ چلا کہ علامہ بیمار ہیں۔دھہ لیکر لیٹے ہوئے تھے۔داڑھی بڑھی ہوئی، چہرہ اترا ہوا، آنکھیں دھنسی ہوئیں۔گرامی دیکھتے ہی آبدیدہ ہو گئے۔پوچھا خیریت ہے۔معلوم ہوا