مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 310
310 ایک طور کے ظلم وخبث اور خطا اور غلطی سے پاک ہو تو ایسا قانون اول تو چل ہی نہیں سکتا۔اور اگر کچھ دن چلے بھی تو چند ہی روز میں طرح طرح کے مفاسد پیدا ہو جاتے ہیں اور بجائے خیر کے شر کا موجب ہو جاتا ہے۔ان تمام وجوہ سے کتاب الہی کی حاجت ہوئی۔کیونکہ ساری نیک صفتیں اور ہر یک طور کی کمالیت و خوبی صرف خدا ہی کی کتاب میں پائی جاتی ہے وبس۔“ ازاں بعد آپ نے ایک سوال کا جواب درج ذیل الفاظ میں سپر د قلم فرمایا: ” وسوسه ششم : معرفت کامل کا ذریعہ وہ چیز ہو سکتی ہے جو ہر وقت اور ہر زمانہ میں کھلے طور پر نظر آتی ہو۔سو یہ صحیفہ نیچر کی خاصیت ہے جو کبھی بند نہیں ہوتا اور ہمیشہ کھلا رہتا ہے اور یہی رہبر ہونے کے لائق ہے۔کیونکہ ایسی چیز کبھی رہنما نہیں ہو سکتی جس کا دروازہ اکثر اوقات بند رہتا ہو اور کسی خاص زمانہ میں کھلتا ہو۔جواب : صحیفہ فطرت کو بمقابلہ کلام الہی کھلا ہو ا خیال کرنا یہی آنکھوں کے بند ہونے کی نشانی ہے۔جن کی بصیرت اور بصارت میں کچھ خلل نہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ اسی کتاب کو کھلے ہوئے کہا جاتا ہے جس کی تحریر صاف نظر آتی ہو جس کے پڑھنے میں کوئی اشتباہ باقی نہ رہتا ہو۔پر کون ثابت کر سکتا ہے کہ مجرد صحیفہ قدرت پر نظر کرنے سے کبھی کسی کا اشتہاہ دور ہو ؟ کس کو معلوم ہے کہ اس نیچیری تحریر نے کبھی کسی کو منزل مقصود تک پہنچایا ہے ؟ کون دعوی کر سکتا ہے کہ میں نے صحیفہ قدرت کے تمام دلالات کو بخوبی سمجھ لیا ہے ؟ اگر یہ صحیفہ کھلا ہو اہو تا تو جو لوگ اسی پر بھروسہ کرتے تھے، وہ کیوں ہزار ہا غلطیوں میں ڈوبتے۔کیوں اسی ایک صحیفہ کو پڑھ کر باہم اس قدر مختلف الرائے ہو جاتے کہ کوئی خدا کے وجود کا کسی قدر قائل اور کوئی سرے سے انکاری۔ہم نے بفرض محال یہ بھی تسلیم کیا کہ جس نے اس صحیفہ کو پڑھ کر خدا کے وجود کو ضروری نہیں سمجھا، وہ اس قدر عمر پالے گا کہ کبھی نہ کبھی اپنی غلطی پر متنبہ ہو جائے گا۔مگر سوال تو یہ ہے کہ اگر یہ صحیفہ کھلا ہوا تھا تو اس کو دیکھ کر ایسی بڑی بڑی غلطیاں کیوں پڑ گئیں۔کیا آپ کے نزدیک کھلی ہوئی کتاب اسی کو کہتے ہیں جس کو پڑھنے والے خدا کے وجود میں ہی اختلاف کریں اور بسم اللہ ہی غلط ہو۔کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اسی صحیفہ فطرت کو پڑھ کر ہزار ہا حکیم اور فلاسفر دہریے اور طبعی ہو کر