مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 290 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 290

290 ستائیسویں فصل طلبہ نشتر کالج کا ڈرامہ۔بھٹو حکومت اور سوشلسٹ ملا سٹیج تیار ہو چکا تو مجوزہ سکیم کے عین مطابق نشتر کالج کے طلبہ کے ذریعہ ربوہ اسٹیشن پر ڈرامہ رچایا گیا جسے خونریز تصادم کا نام دے کر چند گھنٹوں کے اندر اندر مختلف سیاسی عناصر خصوصاً صحافی مولوی تاج محمود کے سگنل پر لائل پور (فیصل آباد) اسٹیشن پر جمع ہو گئے۔اگلے ہی روز اخبارات نے ضرب خفیف کے ایک معمولی واقعہ کو میدان جنگ کے رنگ میں پیش کر کے ملک بھر میں آگ لگادی اور مظلوم احمدی اپنے ہی پیارے وطن میں (جس کے لئے انہوں نے تقسیم ہند سے قبل بے پناہ قربانیاں دی تھیں) ایک ملک گیر خونی کربلا سے دوچار ہو گئے۔بھٹو حکومت نے پاکستان کے مظلوم احمدیوں کی امداد کرنے اور ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے بجائے فسادیوں کو کھلی چھٹی دے دی۔اور ساتھ ہی ڈپلومیسی اور منافقت کی یہ دوغلی پالیسی اختیار کی کہ ایک طرف اس نے ممالک عالم پر اپنی جمہوریت نوازی کا سکہ بٹھانے کے لئے یہ اعلان کیا کہ وہ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے بارہ میں خود کوئی فیصلہ نہیں کرے گی بلکہ اسے قومی اسمبلی پر چھوڑ دے گی۔دوسری طرف عیاری و مکاری سے کام لیتے ہوئے احراری ملاؤں کے ہم عقیدہ و مسلک ہونے کے واضح بیانات دیئے اور ظلم وستم کی حد یہ کہ اس نے اسمبلی میں اس مسئلہ کے حل کیلئے جو ”رہبر کمیٹی قائم کی، اس کے فرائض میں ختم نبوت متعلق جماعت احمدیہ کے عقیدہ کی قرآن و سنت کو روشنی میں چھان بین کرنے کی بجائے پہلے از خود فرض کر لیا کہ احمدی واقعی منکر ختم نبوت ہیں۔اور پھر رہبر کمیٹی کے فرائض میں صرف یہ بات شامل کی کہ وہ منکرین ختم نبوت کی دستوری اور آئینی حیثیت متعین کرے۔چنانچہ اس ضمن میں 30 جون 1974ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی کا جو پہلا اجلاس ہوا اسکی رپورٹ پاکستانی پر میں نے حسب ذیل الفاظ ނ میں شائع کی۔پاکستان اسمبلی کا اجلاس 30 جون 1974ء اسمبلی کا اجلاس ساڑھے 12 بجے دوبارہ شروع ہوا تو وزیر قانون مسٹر عبد الحفیظ پیرزادہ کی طرف سے پیش کردہ منکرین ختم نبوت کی اسلام میں حیثیت کے تعین کے بارے میں ایک تحریک اور اپوزیشن کی قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور