مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 242
242 جو اپنا مذ ہب نہایت ہوشیاری اور چالاکی سے پوشیدہ رکھے۔چنانچہ بہاء اللہ نے میرزا حیدر علی اصفہانی کو استنبول کا مبلغ مقرر کیا تو اولین حکم یہ دیا کہ ” استر ذهبک و ذهابک و مذهبک 25" ترجمہ : اپنی دولت، سفر اور مذھب تینوں چیزوں کو عوام سے چھپا کر رکھنا۔کانگرسی امام الہند نے اپنے مرشد کے اس تاکیدی فرمان پر اس درجہ سختی اور شدت سے عمل کیا کہ انسان داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔انہوں نے اس راز پر ہمیشہ پر وہ ڈالے رکھا کہ انہیں کن کن ذرائع سے روپیہ مل رہا ہے۔انہوں نے حکومت کا تختہ الٹ کر جب کانگرسی سکیم کے مطابق ترکی وغیرہ مسلم ممالک سے گٹھ جوڑ کرنے کے لئے سفر کیا تو کسی کو خبر نہیں ہونے دی۔بابیت و بہائیت کے سب بنیادی اصولوں کو تفسیر کے نام پر مسلمانوں میں پھیلانے کا حق ادا کر دیا مگر کسی کو شبہ تک نہیں ہونے دیا کہ یہ حضرت بھی در پردہ بہائی مشنری ہیں جو ان کی سیاسی پالیسی کا شاہکار ہے۔حالانکہ انہی کے ہمعصر ”حضرت علامہ سید محفوظ الحق علمی صاحب (ولادت 1894ء۔وفات 1978ء)26 جن سے انہیں بابیت و بہائیت کا ”فیض “ ملا نے 1908ء میں میرزا محمود زرقانی کے ذریعہ بہائی دھرم اختیار کیا۔بعد ازاں بہائی مبلغ کی حیثیت سے داخل احمدیت ہو گئے اور خفیہ طور پر قادیان اور دوسرے مقامات پر بہاء اللہ کی تعلیم پھیلاتے رہے۔27 لیکن مارچ 1924ء میں جب ان کی انڈر گراؤنڈ سر گرمیوں کا پردہ چاک ہو گیا تو وہ نہایت بے آبروئی سے قادیان کے مقدس گلی کوچوں سے نکل گئے اور آگرہ میں جا کر دم لیا۔پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ علمی صاحب کی اس ذلت ورسوائی کے تجربہ سے ”مولانا آزاد“ نے خوب سبق سیکھا۔تبھی تو وہ زندگی کے آخری سانس تک تقریر و تحریر کے ذریعے مسلمانوں میں بہائیت کے جراثیم بلا روک ٹوک پھیلانے میں سرگرم رہے۔نہ صرف آزاد بلکہ اقبال کے لٹریچر کا گہری نظر سے مطالعہ کرنے والے مفکر یقیناً اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ ان حضرات کی ہر بات ذو معنی اور پہلو دار ہوتی تھی۔انہوں نے مسلمانوں کے زوال اور زبوں حالی پر آنسو بھی بہائے جس پر ابوالکلام کا تذکرہ “ اور اقبال کا شکوہ “ اور ”جواب شکوہ شاہد ناطق ہیں۔مگر اس کی غرض محض مسلمانوں کی “ ہمدردیاں حاصل کرنے اور ان میں مقبولیت اور شہرت پانا ہی نہیں تھا بلکہ اصل مقصد بہائیوں کے اس دعوی کو تقویت دینا تھا کہ مسلمانوں کا اسلام کو چھوڑ دینا ہی یہ ظاہر کرتا ہے کہ اب انہیں کسی نئی