مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 6
امن وامان برباد ہو گیا اور شورش و اضطراب کا دور دورہ شروع ہو گیا۔مسلمانوں کو مناصب بلند پر فائز دیکھ کر ہند و آگ کی طرح بھڑک اٹھے۔باغیانہ مظاہرے ہوئے۔اشتعال انگیزیاں کی گئیں۔قتل و خونریزی کا بازار گرم ہو گیا۔حد یہ ہے کہ انڈین 9% نیشنل کانگرس تک چیخ اٹھی۔“ دراصل بات یہ تھی کہ گوغدر میں ہندوراج کا منصوبہ شکست کھا گیا مگر جوں جوں غیر ملکی حکومت میں اس کے قدم مضبوط ہوتے گئے، ہندو دماغ میں مسلمانوں کے خلاف انتقامی جذبات تیز تر ہوتے گئے اور ایک نئے غدر کے ذریعہ انگریزی حکومت کا تختہ الٹ کر پورے ملک کو ہندور یاست بنانے کی سازشیں اندر ہی اندر وسیع سے وسیع تر ہوتی گئیں اور اس مقصد کی تکمیل کے لئے ہندوستان کے طول و عرض میں کانگرس کے علاوہ بہت سی ہندو اور سکھ انار کسٹوں کی پارٹیاں وجود میں آگئیں جن کا واحد مقصد یہ تھا کہ بغاوت کر کے انگریزی حکومت کی جگہ ہندوراج قائم کر دیا جائے۔تقسیم بنگال کے فیصلہ نے اس خیال پر چونکہ ضرب کاری لگائی اس لئے ہندوؤں کے مخفی عزائم شورش بنگال کی شکل میں پہلی مرتبہ کھل کر سامنے آگئے جس نے غریب اور پسماندہ مسلمانوں کو بھی احساس دلایا کہ ہندوؤں کو مسلم قوم کا وجود ہی نا قابل برداشت ہے اور اگر غیر ملکی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تو ہندوان کی تکا بوٹی کر دیں گے۔ہندوستان اور بیرونی ممالک کی ایسی تمام باغیانہ تحریکوں کے روح رواں مشہور انقلابی لیڈر لالہ ہر دیال ایم اے تھے جنہوں نے اپنے ایک بیان میں واضح لفظوں میں اعلان کیا کہ :- ”ہندو قوم اور ہندوستان اور پنجاب کا مستقبل ان چار آدرشوں (مقاصد ) پر منحصر ہے۔ا۔ہندو سکھٹن ۲۔ہندوراج - اسلام اور عیسائیت کی شدھی ۳۔۴۔افغانستان اور سرحد کی فتح اور شدھی۔10 لالہ جی نے کئی مرتبہ اپنے اس بیان کے مختلف پہلوؤں پر ہندوستان میں مسلمانوں اور انگریزوں کے خلاف نہایت زہر آلود تقریریں کیں۔چنانچہ انہوں نے کہا:- ”جوش پیدا ہو گا تو سوراج ، شاہی اور افغانستان کی فتح کے علاوہ ممکن ہے کہ ہم مشرقی افریقہ، نجی اور دوسرے ملکوں پر قابض ہو جائیں گے جہاں ہندو بھائی آباد ہیں، کیونکہ اس وقت ہم کسی ہندو بھائی کو دنیا بھر میں غلامی کی حالت میں نہ چھوڑیں گے۔ایسی دیش بھگتی کی لہر چلے گی۔نام کی گنگا میں چڑھاؤ آئے گا۔پس اگر ہندو نستان