مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 104 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 104

104 جس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب ایڈیٹر تشخیذ الاذہان نے بتایا کہ :- ” اس موجودہ شورش کی ابتداء بنگالیوں سے سے ہوئی اور پھر یہ تحریک بد آناًفاناً بجلی کی طرح پنجاب میں پھیل گئی ہے اور اب بعض بڑے بڑے شہروں میں خطرناک رنگ اختیار کرنے کو تھی کہ یہ گورنمنٹ انگریزی نے (جو اپنی طاقت، شوکت اور اپنی تدبیر سلطنت کے لئے ایک مشہور گورنمنٹ ہے) نہایت قابلیت کے ساتھ قرین انصاف پہلوؤں کی بناء پر اس کے تدارک اور انسداد کی طرف توجہ فرمائی ہے جس سے یقین ہو گیا ہے کہ یہ متعدی مرض رُک جائیگا اور خدا کرے کہ یہ فوراً رک جاوے تا کہ اہل ملک کو آنیوالے خطرہ کا سامنا نہ ہو۔اس فساد کی ابتدا جہاں تک واقعات سے پتہ لگتا ہے اور معلوم ہو سکتا ہے ، ہندوؤں سے ہوئی ہے اور ان کے گھروں میں ہی اس نے پرورش پائی۔ان کے اثر سے متاثر ہو کر کم فہم مسلمانوں نے بھی انکی ہاں میں ہاں ملائی۔مگر عام طور پر مسلمانوں نے اس کو اپنے لئے خطر ناک اور مضر یقین کیا اور وہ اس سے الگ رہے۔اگر بعض غیر ذمہ دار اور ضمیر فروش اشخاص ساتھ ہوئے تو وہ کسی گنتی میں نہیں۔آجکل راولپنڈی۔لاہور۔امرتسر میں یہ فساد بہت بُری طرح پھیلا تھا جو بہت جلد دبا دیا گیا۔راولپنڈی میں ان شورہ پشت لوگوں نے انگریزوں پر حملے کئے اور لیڈیوں کی توہین کی۔گر جا گھر کو آگ لگا کر اسباب جلا دیا۔گورنمنٹ سکول کو آگ لگائی۔اس قسم کی حماقت کی کارروائیاں کر کے انہوں نے ظاہر کر دیا ہے کہ وہ ملک اور سلطنت کے بدخواہ اور دشمن ہیں۔اس قسم کی شرارتوں اور خباثتوں سے مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ بچتے رہیں۔اگر وہ خدا پر ، قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر ایمان رکھتے ہیں تو ان کا مذہبی فرض ہے کہ بغاوت اور فساد کے طریقوں سے بچتے رہیں۔66 حضرت صاحبزادہ صاحب کی تقریر کے بعد حضرت حکیم الامت مولانانور الدین صاحب نے ایک جامع تقریر فرمائی۔آپ نے فرمایا: