مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 21
42 مسلم نوجوانوں کے کارنامے 41 مسلم نوجوانوں کے نامے 15۔اہل عرب کا خیال تھا کہ کسی کا پاؤں سن ہو جائے تو اگر وہ اپنے محبوب کو یاد کرے تو یہ کیفیت دور ہو جاتی ہے۔ایک دفعہ حضرت عبد اللہ بن عمر کا پاؤں سن ہوا تو کسی نے کہا کہ اپنے محبوب کو یاد کریں۔تو انہوں نے جھٹ کہا۔یا محمد۔یہ ایک ذوقی بات ہے۔کوئی شرعی مسئلہ نہیں ہے جس سے صحابہ کی فدائیت اور آنحضرت ﷺ کے ساتھ ان کے انتہائی عشق کی کیفیت معلوم ہوتی ہے۔16 - کفار جب آنحضرت ﷺ پر تشدد کرتے تو بسا اوقات حضرت ابو بکر ا پنی جان کو خطرہ میں ڈال کر آپ کی حفاظت کی سعادت حاصل کرتے۔صلى الله ایک دفعہ آنحضرت مے خانہ کعبہ میں تبلیغ فرما رہے تھے کہ قریش سخت برہم ہوئے۔اور آپ پر حملہ آور ہوئے۔اس وقت قریش کے غصہ کا پارہ اگر چہ انتہا پر پہنچا ہوا تھا اور ان سے تعرض کرنا گویا اپنے آپ کو ہلاکت کے منہ میں ڈالنا تھا تا ہم حضرت ابوبکر کے جذ بہ جان شاری نے جوش مارا اور آپ نے آگے بڑھ کر قریش کو بہت لعنت ملامت کی اور فرمایا۔خدا تم لوگوں سے سمجھے کیا تم آپ کو اس لیے قتل کرنا چاہتے ہو کہ آپ ایک خدا کا نام لیتے ہیں۔17- ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک کا فر عقبہ بن معیط نے اپنی چادر کا حضور کے گلے میں پھندا ڈال ڈیا لیکن عین اس وقت حضرت ابوبکر پہنچ گئے۔اور اس بدبخت کی گردن پکڑ کر آپ سے علیحدہ کی اور فر مایا: کیا تم اس شخص کو قتل کر دو گے جو تمہارے پاس خدا تعالیٰ کی کھلی نشانیاں لایا ہے اور کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔18۔آنحضرت ﷺ جب ہجرت کے ارادہ سے مکہ سے نکلے اور غار ثور میں پناہ گزین ہوئے تو اس غار کے تمام سوراخ اگر چہ نہایت احتیاط کے ساتھ بند کر دیے گئے تاہم ایک سوراخ باقی رہ گیا۔آنحضرت ﷺ حضرت ابو بکر کے زانو پر سر مبارک رکھ کر استراحت فرمار ہے تھے کہ اتفاقاً اس سوراخ میں سے ایک زہریلے سانپ نے سر نکالا۔حضرت ابوبکرؓ نے اپنے محبوب آقا کے آرام میں کوئی معمولی خلل بھی گوارا نہ کرتے ہوئے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر خوشی اور مسرت کے جذبات سے اس سوراخ پر پاؤں رکھ دیا جس پر سانپ نے کاٹ لیا۔زہر اثر کر نے لگا مگر آپ نے پھر بھی حضور کے آرام کا اس قدر خیال رکھا کہ اف صلى الله الله تک نہ کی۔اور معمولی سی معمولی حرکت بھی آپ سے سرزد نہ ہوئی۔تا آنحضرت ﷺ کے آرام میں خلل نہ آئے۔لیکن درد کی شدت بے قرار کر رہی تھی۔اس لیے آنکھوں سے آنسو گر گئے۔جن کا ایک قطرہ آنحضرت ﷺ کے رخسار مبارک پر گرا۔آپ کی آنکھ کھل گئی اور دریافت فرمایا کہ کیا معاملہ ہے۔حضرت ابوبکر نے عرض کیا کہ سانپ نے ڈس لیا ہے۔آنحضرت ﷺ نے لعاب دہن اس مقام پر لگایا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے زہر دور ہو گیا۔19 - حضرت ام عمارہ ایک صحابیہ تھیں۔غزوہ احد میں جب ایک اچانک حملہ کی وجہ سے بڑے بڑے بہادران اسلام کے پاؤں تھوڑے سے وقت کے لیے اکھڑ گئے تو وہ آنحضرت میر کے پاس آپ کی حفاظت کے لیے پہنچ گئیں۔کفار آپ کو گزند پہنچانے کے لیے نہایت بے جگری کے ساتھ حملہ پر حملہ کر رہے تھے۔ادھر آپ کے گرد بہت تھوڑے لوگ رہ گئے تھے۔جو آپ کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں پر کھیل رہے تھے۔ایسے نازک اور خطرناک موقعہ الله صلى الله پر حضرت ام عمارہ آپ کے لیے سینہ سپر تھیں۔کفار جب آنحضرت ﷺ پر حملہ کرتے تو وہ تیر اور تلوار کے ساتھ ان کو روکتی تھیں۔آنحضرت ﷺ نے خود فرمایا کہ میں غزوہ احد میں ام صلى الله عمارہ کو برابر اپنے دائیں اور بائیں لڑتے ہوئے دیکھتا تھا۔ابن قیمہ جب آنحضرت میہ کے عین قریب پہنچ گیا تو اسی بہادر خاتون نے اسے روکا۔اس کمبخت نے تلوار کا ایسا وار کیا کہ اس جانباز خاتون کا کندھا زخمی ہوا۔اور اس قدر گہرا زخم آیا کہ غار پڑ گیا۔مگر کیا مجال کہ قدم پیچھے ہٹا ہو بلکہ آگے بڑھ کر اس پر خود تلوار سے حملہ آور ہوئیں اور ایسے جوش کے ساتھ اس پر وار کیا کہ اگر وہ دوہری زرہ نہ پہنے ہوئے ہوتا تو قتل ہو جاتا۔20۔آنحضرت ﷺ کے ساتھ آپ کے صحابہ کے اخلاص کو دیکھ کر وہ عیسائی مورخین بھی جو مسلمانوں اور ان کے مذہب پر خواہ مخواہ اعتراض پیدا کرتے رہتے ہیں اس کی داد دیئے www۔alislam۔org