مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 8 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 8

مسلم نوجوانوں کے نامے 15 6- حضرت فاطمۃ الزہرا کے ساتھ حضرت علیؓ کی شادی کے بعد ایک روز آنحضرت مہ آپ کے ہاں گئے تو حضرت فاطمہ نے عرض کیا۔کہ حارثہ بن نعمان کے پاس کئی مکانات ہیں ان سے فرمائیں کہ ایک مکان ہمارے لیے خالی کر دیں۔آپ نے فرمایا کہ وہ ہمارے لیے پہلے ہی اتنے مکانات خالی کر چکے ہیں کہ مجھے اب ان سے بات کہتے ہوئے تأمل ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے ان سے اس کے متعلق کوئی ذکر کر نا بھی پسند نہ کیا۔حضرت حارثہ کو کسی اور ذریعہ سے اس بات کا علم ہو گیا۔تو آپ بھاگے بھاگے آئے اور عرض کیا۔یا رسول اللہ میرا تمام مال اور جائداد حضور پر قربان ہے اور میں تو اس میں خوشی محسوس کرتا ہوں کہ آپ مری کوئی چیز قبول فرمائیں۔جو چیز آپ قبول فرمالیں وہ مجھے زیادہ خوشی پہنچاتی ہے بہ نسبت اسکے کہ جو میرے قبضہ میں رہے۔اور پھر خود بخود ایک مکان خالی کر کے پیش کیا جس میں حضرت علی اور حضرت فاطمہ نے رہائش اختیار فرمالی۔7 - 8 ھ میں مسلمانوں کو ایک غزوہ پیش آیا جسے غزوہ جیش الخبط کہتے ہیں۔مسلمانوں کی تعداد تین سو تھی لیکن زاد راہ ختم ہو گیا اور مجاہدین کو سخت پریشانی کا سامنا ہوا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ درختوں کے پتے جھاڑ جھاڑ کر کھانے لگے۔حضرت قیس بن سعد بن عبادہ بھی اس لشکر میں شریک تھے۔آپ نے تین مرتبہ تین تین اونٹ قرض لے کر ذبح کیے اور سارے لشکر کو دعوت دی۔۔حضرت صہیب ابتدائی مسلمانوں میں سے تھے۔مگر نہایت مسکین اور بے کس آدمی تھے۔قریش مکہ ان کو طرح طرح کی تکالیف پہنچاتے تھے۔تنگ آکر آپ نے ہجرت کا ارادہ کیا تو مشرکین نے کہا کہ تم جب یہاں آئے تھے تو بالکل مفلس اور قلاش تھے۔اب ہماری وجہ سے مالدار ہو گئے ہو تو چاہتے ہو کہ تمام مال و اسباب لے کر یہاں سے نکل جاؤ۔ہم ہرگز تمہیں ایسا نہ کرنے دیں گے۔آپ کے دل میں ایمان کی جو گن تھی وہ ایسی نہ تھی کہ مال و دولت کی زنجیر ان کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرنے سے باز رکھ سکتی۔آپ نے فرمایا کہ مسلم نوجوانوں کے 16 اگر میں تمام مال و دولت تمہارے حوالہ کر دوں تو پھر تو تم کو میرے جانے پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔وہ رضامند ہو گئے۔چنانچہ آپ نے سب مال و اسباب ان کے حوالے کیا اور بالکل مفلس ہو کر ہجرت اختیار کی۔آنحضرت ﷺ کو جب اس کا علم ہوا تو فرمایا۔ریح صہیب یعنی صہیب نفع میں رہے۔جو لوگ معمولی مواقع پیش آنے پر دین کی خدمت سے محروم رہ جاتے ہیں اور ثواب کے مواقع ہاتھ سے کھو دیتے ہیں انہیں اپنے اس بزرگ کی مثال پر غور کرنا چاہیے جس نے ایمان کی حفاظت کے لیے اپنا تمام اندوختہ قربان کرنے میں ایک لمحہ بھی تامل نہ کیا۔۔حضرت نوفل بن حارث نے غزوہ حنین میں تین ہزار نیزے اپنی گرہ سے خرید کر مجاہد دین کے لیے پیش کیے۔10 - حضرت سعد بن مالک بیمار ہوئے تو آنحضرت ﷺ عیادت کے لیے تشریف لائے۔انہیں اپنی اس سعادت پر اس قدر مسرت ہوئی کہ عرض کیا۔یا رسول اللہ ! میں خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنا کل مال صدقہ کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا۔ورثاء کے لیے کیا چھوڑتے ہو۔تو عرض کیا کہ وہ سب خدا تعالیٰ کے فضل سے آسودہ حال ہیں۔مگر آپ نے فرمایا۔کہ نہیں صرف 1/10 کی وصیت کرو۔لیکن انہوں نے اس سے زیادہ کرنے کی خواہش کی تو آپ نے 1/3 کی اجازت دے دی۔11۔حضرت ابی وقاص مرض الموت میں مبتلا تھے کہ آنحضرت یہ عیادت کے لیے تشریف لائے۔حضرت ابی وقاص نے عرض کیا۔یا رسول اللہ میرے پاس دولت بہت ہے اور ورثاء میں سے صرف ایک لڑکی ہے۔چاہتا ہوں کہ 2/3 مال صدقہ کردوں۔آپ نے منع فرمایا تو عرض کیا۔اچھا نصف کی اجازت دیجئے۔مگر آپ نے اس کی بھی اجازت نہ دی اور فرمایا کہ تیسرا حصہ کافی ہے۔12 - حضرت طلحہ نے سترہ اٹھارہ سال کی عمر میں اسلام قبول کیا تھا۔اور جنگِ بدر میں جس www۔alislam۔org