مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 9
18 مسلم نوجوانوں کے کارنامے 17 مسلم نوجوانوں کے نامے جاں نثاری کے ساتھ رسول کریم اے کے لیے سینہ سپر رہے اس کا ذکر تفصیل کے ساتھ کسی دوسری جگہ آچکا ہے۔لیکن مالی قربانی کے لحاظ سے بھی آپ کسی سے پیچھے نہ تھے۔عہد کر رکھا تھا کہ غزوات کے مصارف کے لیے اپنا مال پیش کیا کریں گے۔چنانچہ اس عہد کو استقلال اور استقامت کے ساتھ نباہا۔غزوہ تبوک کے موقع پر جب مسلمان عام طور پر فلاکت میں مبتلا تھے اور سامان جنگ کی فراہمی کے لیے سخت دقت در پیش تھی۔آپ نے ایک گراں قدر رقم پیش کی۔اس پر آنحضرت مہ نے آپ کو فیاض کا خطاب دیا۔13 - جب قرآن کریم کی آیت کریمہ رِجال صَدَقُوا مَا عَاهَدُ وَالله عَلَيْهِ فَمِنهُم مِن قضى نحبہ یعنی کچھ آدمی ایسے ہیں جنہوں نے خدا سے جو کچھ عہد کیا اس کو سچا کر دکھایا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔طلحہ تم بھی ان لوگوں میں سے ہو۔14۔حضرت طلحہ غزوہ ذی القرد میں آنحضرت ﷺ اور دیگر مجاہدین کے ساتھ ایک چشمہ آب پر سے گزرے تو اسے خرید کر وقف کر دیا۔-15- حضرت عبد الرحمن بن عوف نے جوانی کے وقت اسلام قبول کیا۔آپ بہت بڑے تاجر اور بہت بڑے مالدار تھے لیکن دولت سے پیار بالکل نہ تھا۔بلکہ اسے راہ خدا میں خرچ کرنے میں ہی خوشی محسوس کرتے تھے۔ایک دفعہ ان کا تجارتی قافلہ مدینہ آیا تو اس میں سات سو اونٹوں پر گیہوں، آنا اور دیگر اشیاء خوردنی بارتھیں۔چونکہ یہ ایک غیر معمولی بات تھی۔تمام مدینہ میں چرچا ہونے لگا۔حضرت عائشہ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ فرماتے تھے عبدالرحمن جنت میں رینگتے ہوئے داخل ہو نگے۔حضرت عبدالرحمن تک بھی یہ بات پہنچی۔تو حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ آپ گواہ رہیں میں نے یہ پورا قافلہ معہ اسباب و سامان حتی کہ کجاوے تک راہ خدا میں وقف کر دیا۔16 - مذکورہ بالا مثال پر ہی آپ کی مالی قربانی ختم نہیں ہوتی بلکہ آپ زندگی بھر راہ دین میں کثرت سے قربانیاں کرتے رہے۔چنانچہ دو مرتبہ آپ نے یک مشت چالیس چالیس ہزار دینار دیئے اور ایک غزوہ کے موقعہ پر جہاد کے لیے پانچ سو گھوڑے اور اتنے ہی اونٹ حاضر کیے۔17 - وفات کے وقت بھی آپ نے پچاس ہزار دینار اور ایک ہزار گھوڑے راہ خدا میں وقف کرنے کی وصیت کی۔علاوہ ازیں اس وقت تک بدری صحابیوں میں سے جو جو زندہ تھے ان میں سے ہر ایک کے لیے چار چار سو دینار کی وصیت کی۔بیان کیا جاتا ہے کہ اس وقت تک ایک سو بدری صحابی زندہ تھے۔اور سب نے اس وصیت سے بخوشی فائدہ اٹھایا حتی کہ حضرت عثمان نے بھی اپنا حصہ لیا۔18- دین کی راہ میں صحابہ کی قربانیاں کئی رنگ میں ہوتی تھیں۔ایک متمول انسان کا خدا کی راہ میں مال خرچ کرنا اور بات ہے لیکن ایک معمولی حیثیت کے آدمی کا اپنے سرمایہ اور پونچی سے محروم ہو جانا بہت بڑا ابتلاء ہے۔اور شیطان نے اس راہ سے بھی صحابہ کے ایمان میں تزلزل پیدا کرنے کی کوششیں کی لیکن باقی تمام راہوں کی طرح وہ اس راہ سے بھی ان کے ایمان کو متزلزل نہ کر سکا۔حضرت خباب ایک نوجوان صحابی تھے جن کا ایک مشرک عاص بن وائل کے ذمہ قرض تھا۔آپ نے اسلام قبول کرنے کے بعد جب اس سے قرض کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا کہ جب تک ﷺ کی نبوت کا علی الاعلان انکار نہ کرو گے میں یہ روپیہ تم کو ہر گز ادا نہ کروں گا۔لیکن آپ نے جواب دیا کہ روپیہ ملے یا نہ ملے لیکن یہ تو قیامت تک نہیں ہوسکتا کہ میں ایک معمولی دنیوی فائدہ کے لیے نبوت ورسالت سے انکار کر دوں۔19 - جانی اور مالی اور عزت کی قربانیوں کے علاوہ دنیا میں تعلقات اور رشتہ داروں کی قربانی بھی بہت مشکل ہے۔آنحضرت ﷺ کی آواز پر جن لوگوں نے لبیک کہا۔ان کے لیے اس قربانی کا موقعہ آنا بھی لازمی تھا۔چنانچہ صحابہ کو یہ قربانیاں کرنی پڑیں۔اور آپ نے۔www۔alislam۔org