مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 60 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 60

120 مسلم نوجوانوں کے کارنامـ 119 مسلم نوجوانوں کے رنامے کیسے ان کا ذکر اور اس سلسلہ میں خود اس کے لڑکے کی غیرت ایمانی کا ذکر شرح وبسط کے ساتھ پہلے گزر چکا ہے۔اس کے یہ نا پاک الفاظ ایک بچہ زید بن ارقم نے سنے تو بے تاب ہو گیا اور فوراً اپنے چچا کی وساطت سے آنحضرت ﷺ کوخبر کی۔آپ نے عبداللہ بن ابی سے پوچھا لیکن وہ چونکہ مرض نفاق میں مبتلا اور حقیقی ایمان سے محروم تھا۔اس نے انکار کر دیا اور اس کے ساتھیوں نے بھی جو اس کی طرح مرض نفاق کے مریض تھے قسمیں کھا کھا کر اس کی تصدیق کی۔آنحضرت ﷺ نے حکم خداوندی کے مطابق حسن ظنی سے کام لیا۔اور ان کے بیانات کو صحیح سمجھ کر حضرت زید کی بات کو رد کر دیا۔لیکن بعد میں وحی الہی نے زید کی بات کی تصدیق کر دی اور اس طرح اس مومن بچہ کے دامن کو اس غلط بیانی کی آلائش سے پاک کرنے کے لیے اپنے رسول کو براہ راست اس کی سچائی کی اطلاع دی۔الله 5- حضرت معاذ بن جبل نہایت متقی نوجوان اور اسلامی اخلاق ومحاسن کے پیکر تھے۔راست گوئی کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کے متعلق کوئی بات بیان کی۔حضرت انس نے جا کر آنحضرت ﷺ سے اس کی تصدیق چاہی تو آپ نے فرمایا صدق معاذ ،صدق معاذ صدق معاذ اور اس طرح اپنے ایک صحابی کی راست بیانی کی تصدیق پورے زور کے ساتھ فرمائی۔6- حضرت عبدالرحمن بن عوف نے قریباً تمیں سال کی عمر میں سلام قبول کیا تھا۔لیکن تقویٰ و طہارت اور صدق وصفا میں اس قدر بڑھے ہوئے تھے کہ صحابہ کرام کو ان کی صداقت پر کامل اعتماد تھا۔حتی کہ وہ کسی تنازعہ کی صورت میں خواہ مدعی ہوتے یا مد عاعلیہ صرف ان کے بیان کو ہی کافی سمجھتے تھے۔-7- دین کے معاملہ میں صحابہ کرام نازک سے نازک دنیوی تعلقات کی ذرہ بھر پرواہ نہ کرتے تھے۔اور تمام عواقب سے بے نیاز ہو کر کچی بات کہہ دیتے تھے۔چنانچہ ایک کمزور مسلمان قدامہ بن مظعون سے ایک مرتبہ ایسی لغزش سرزد ہوئی کہ شراب پی لی۔حضرت عمر کو اطلاع ہوئی تو آپ نے قدامہ کے لیے شرعی سزا تجویز کی۔لیکن معلوم ہے اس کیس میں شاہدکون تھا۔اور کس کی شہادت پر اسے یہ سزا ہوئی۔خود مظعون کی بیوی نے اپنے خاوند کے خلاف شہادت دی اور اس کی شہادت کی بناء پر ملزم کو سزادی گئی۔مندرجہ بالا واقعات میں صحابہ میں سے بعض کی لغزشوں کا ذکر آیا ہے۔اس سے کسی کو کوئی غلط فہمی نہ ہونی چاہیے۔ایسے واقعات معدودے چند ہیں جن میں کسی صحابی کا کسی نہ کسی وجہ سے لغزش کھا جانا ثابت ہوتا ہے۔ورنہ وہ لوگ پاکبازی اور تقویٰ کے اس قدر بلند مقام پر فائز تھے کہ ان سے ایسے افعال کے صدور کا امکان بھی نہ تھا۔تاریخ عرب سے ادفی واقفیت رکھنے والے بھی اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہیں کہ اس ملک میں شراب خوری اور زنا کاری کا رواج بہت عام تھا۔اور اہل عرب شب و روز انہی مشاغل میں مصروف رہتے تھے۔اسلام نے آکران برائیوں کو حرام قرار دے دیا اور صحابہ کرام نے اپنی عمر بھر کی عادات کے باوجود ان احکام کی اس قدر شدت کے ساتھ پابندی کی کہ کسی اور قوم کی تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔اور ایسے عادی لوگوں میں سے کسی ایک کے پاؤں میں کبھی لغزش کا آجانا کوئی ایسی بات نہیں جس کی بناء پر صحابہ کرام کی قومی بزرگی اور پاکبازی پر کوئی اعتراض جائز ہو سکے۔اور کلی طور پر گنا ہوں سے معصوم اور محفوظ تو اللہ تعالیٰ کے انبیاء ہوتے ہیں۔کمزور مومنوں سے کبھی عارضی طور پر لغزش کا ہو جانا ناممکن نہیں ہے۔صحابہ میں سے اگر کسی سے ایسا ہو جاتا تو وہ فوراً تو بہ کی طرف رجوع کرتے۔اور خود اپنی غلطی اور قصور کا اعتراف کر کے اس کی ہر ممکن تلافی کر لیتے تھے۔اور سچ تو یہ ہے کہ ایسے واقعات سے اور پھر ایسی حرکات کے صدور پر ان پاکبازوں کی پشیمانی اقرار جرم اور اس کی سزا کو قبول کرنے کے لیے بے تابی ایک ایسی چیز ہے جو ایک انصاف پسند کی نظر میں ان کی وقعت بڑھا دیتی ہے۔ان واقعات میں ایک اور خاص قابل غور اور قابل تقلید پہلو یہ ہے کہ صحابہ کرام اس دنیا کی سزا کو کوئی سزا نہیں سمجھتے تھے۔ان کے قلوب پر مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور گناہوں۔www۔alislam۔org