مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 61
مسلم نوجوانوں کے رنامے 121 پاک ہو کر جانے کا خیال غالب تھا۔وہ آخرت کی سزا کو اپنے لیے بالکل نا قابل برداشت سمجھتے تھے۔اور اس لیے ان کی پوری کوشش یہ ہوتی تھی کہ جس طرح بھی ہوا نہیں گناہوں کی سزا اسی دنیا میں مل جائے۔تاکہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور بالکل پاک ہو کر جائیں۔لیکن ہمارے زمانہ کی حالت اس سے بالکل برعکس ہے۔آج ہم میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو انتہائی کوشش کرتے ہیں کہ ان سے جو غلطی ہوئی اسکی سزا سے جسطرح ہو سکے یہاں بچ جائیں اور اس بچاؤ کے لیے اگر اصل جرم کے علاوہ انہیں جھوٹ اور غلط بیانی وغیرہ دوسرے خطرناک جرائم کا بھی مرتکب ہونا پڑے تو وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے۔اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ کیفیت در اصل خدا تعالیٰ پر کامل ایمان نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔ورنہ جو شخص دل سے ایمان رکھتا ہے کہ اس نے مرنا اور خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔جہاں اسے اپنے دنیوی اعمال کے لیے لازماً جواب دہی کرنا پڑے گی۔تو وہ کبھی اس قدر جرات نہیں کر سکتا کہ کوئی خطا کرنے کے بعد پھر اس کی سزا سے بھی بچنے کی کوشش کرے۔اور اس طرح اپنے لیے اپنے ہاتھ سے آخرت میں سزا کا موقعہ پیدا کرے۔سچ یہی ہے کہ ایک ایسے انسان کے لیے جس کا دل نور ایمان سے منور ہو اس دنیا میں انتہائی سز احتی کہ جان دے دینے کی سزا بھی بہت معمولی اور حقیر ہے بجائے اس کے کہ وہ گنہگار ہونے کی حیثیت میں اپنے پیدا کرنے والے خدا کے دربار میں حاضر ہو۔اور پھر کسی بداعمالی کی سزا میں عذاب دوزخ کا مستحق سمجھا جائے۔ا۔(مسلم کتاب الزکوة) ۳- (مسلم کتاب الحدود)۔(سیر انصارج 2 ص 187) ے۔(اصابہ ج 5 ص 323) حوالہ جات ۲۔( بخاری کتاب المغازی) ۴۔(سیرت خاتم النهمين ص560)۔(مسند احمد ج 1 ص 192) مسلم نوجوانوں کے کارنامے عبادت گزاری اور زہد وانقاء 122 1- حضرت ابو ہریرہ کے متعلق ثابت ہے کہ آپ نے عالم جوانی میں اسلام قبول کیا مگر شب بیداری آپ کا محبوب مشغلہ تھا۔آپ کا کنبہ نہایت مختصر اور صرف تین اصحاب پر مشتمل تھا۔یعنی آپ خود، آپ کی بیوی اور ایک خادم۔مگر اس مقدس خاندان نے بھی عبادت الہی کے لیے ایسی تقسیم اوقات کر رکھی تھی کہ جس سے ساری رات ہی عبادت میں بسر ہو۔اور وہ اس طرح کہ تینوں باری باری ایک تہائی رات جاگتے اور عبادت کرتے تھے۔2 حضرت حرام بن تمحان رات کے وقت قرآن کریم کا درس دیتے اور نمازیں پڑھتے رہتے تھے۔3 حضرت عبداللہ بن عمر جوانی میں ہی نہایت متقی اور عبادت گزار تھے۔عبادت کے شوق میں رات کو مسجد کے فرش پر سورہتے۔دنیا وی دلفریبیوں سے کوئی سروکار نہ تھا اور خواہشات نفسانی پر پورا قابور کھتے تھے۔آنحضرت پر آپ کی عبادت گزاری اور پاکبازی کا اس قدر اثر تھا کہ بر ملا اس کا اظہار فرمایا۔چنانچہ ایک مرتبہ ام المومنین حضرت حفصہ سے فرمایا کہ عبداللہ جوان صالح ہے۔-4 پہلے یہ ذکر ہو چکا ہے کہ حضرت عکرمہ بن ابی جہل نے اسلام لانے کے بعد قرار کیا تھا کہ اسلام کی مخالفت میں جو کچھ کیا ہے اور جس جس رنگ میں مخالفت کی ہے۔اسی رنگ میں مگر اس سے دو گنا خدمت اسلام کریں گے۔چنانچہ اسلام کی تائید میں میدان جہاد میں آپ نے جو جو کار ہائے نمایاں کیے، جس طرح بڑھ بڑھ کر ہر موقعہ پر داد شجاعت دیتے رہے اس کے بے شمار ثبوت تاریخ اسلام میں نظر آتے ہیں۔لیکن اس کے علاوہ عبادت میں بھی اس اقرار کو صدق دل کے ساتھ پورا کر کے دکھا دیا۔حالت کفر میں آپ کی جبیں بتوں کے آگے سجدہ ریز رہ چکی تھی اور اپنی اس نادانی پر انہیں رہ رہ کر افسوس آتا تھا۔اور اس سے اس کلنک کے ٹیکہ کو دھونے کے لیے بے چین و بے قرار رہتے تھے۔چنانچہ اسے خدا تعالیٰ کے www۔alislam۔org