مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 15
30 مسلم نوجوانوں کے کارنامے 29 مسلم نوجوانوں کے نامے تعالیٰ سے عہد کیا ہوا ہے کہ اسے قتل کروں گا۔اور یا پھر اس مردود کو قتل کرنے کی کوشش میں اپنی جان دے دوں گا۔میں نے اس کے سوال کا ابھی جواب نہ دیا تھا کہ دوسرے نے بھی بالکل اسی انداز میں یہی سوال کیا۔ان بچوں کے اس بلندا رادہ کو دیکھ کر میں حیران ہو گیا اور خیال کرنے لگا کہ بھلا یہ بچے اپنے عہد کو کس طرح پورا کر سکتے ہیں۔جبکہ ابو جہل قریش کے بڑے بڑے نامی پہلوانوں اور آزمودہ کا رسپاہیوں کے حلقہ میں ہے۔تاہم میں نے ان کو ہاتھ کے اشارہ سے ابو جہل کا پتہ دے دیا۔میرا اشارہ ہی کرنا تھا کہ وہ دونوں نو عمر بچے باز کی طرح جھپٹے اور دشمن کی صفوں کو کاٹتے ہوئے چشم زدن میں ابوجہل پر جا پڑے اور اس پھرتی سے اس پر حملہ کیا کہ آن واحد میں اس سرکش انسان کا مغرور سر خاک پر تھا اور یہ سب کچھ ایسا آنا فانا ہوا کہ ابو جہل کے ساتھی دیکھتے ہی رہ گئے۔عکرمہ بھی اپنے باپ کے ہمراہ تھے۔اسے تو وہ نہ بچا سکے مگر ان دونوں میں سے ایک لڑکے یعنی حضرت معاذ پر حملہ آور ہوئے اور تلوار کا ایسا وار کیا کہ ان کا ایک بازو کٹ کر لٹکنے لگا۔اس قدر شدید زخم کھانے کے باوجود معاذ پیچھے نہیں ہٹا بلکہ مکرمہ کا پیچھا کیا لیکن وہ بچ کر نکل گئے۔معاذ نے جنگ بدستور جاری رکھی۔اور چونکہ کٹا ہوا ہا تھ لڑنے میں روک ہو رہا تھا اس لیے اسے زور کے ساتھ کھینچ کر الگ کر دیا اور پھر لڑنے لگے۔13 - صحابہ جہاد میں شرکت کے لیے کس قدر حریص ہوئے تھے۔اس کا اندازہ کرنے کے لئے یہ واقعہ کافی ہے کہ حضرت سعد بن نخشبہ جنگ بدر کے وقت کم عمر تھے۔تاہم شرکت کے لیے تیار ہو گئے۔چونکہ آپ کے والد بھی میدان جنگ میں جارہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم میں سے ایک کو ضرور گھر پر رہنا چاہیے اور بیٹے کو گھر رہنے کے لیے کہا۔بیٹے نے جواب دیا کہ اگر حصول جنت کے علاوہ کوئی اور موقعہ ہوتا تو بسر و چشم آپ کے ارشاد کی تعمیل کرتا اور اپنے آپ پر آپ کو ترجیح دیتا لیکن اس معاملہ میں میں ایسا کرنے کے لیے نہیں ہوں۔آخر فیصلہ اس بات پر ٹھہرا کہ قرعہ ڈال لیا جائے۔چنانچہ قرعہ میں بیٹے کا نام نکلا۔وہ شریک ہوئے اور شہادت پائی۔حوالہ جات ۲۔(اسد الغابہ ج ۳ ص 569،568) ا۔(اسد الغابہ ج 4 ص 202) ۳۔( تاریخ طبری ص 2100) ۴۔(ابوداؤد کتاب الجہاد )۔(اسد الغابہ ج1 ص177) ۵۔(استیعاب ج 4 ص 311) ے۔( بخاری کتاب المغازی باب غزوہ بنی مصطلق ) ( بخاری کتاب المغازی باب غزوہ بنی مصطلق) ۹۔( بخاری کتاب المغازی ص565) ۱۰۔( تاریخ طبری ص 1392) ا۔(اصابہ ج 4 ص 603) ۱۲۔(سیرت خاتم النبین ص 362) ۱۳۔(سیر انصارج2 ص34) www۔alislam۔org