مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 12 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 12

مسلم نوجوانوں کے ی کارنامے حوالہ جات ا۔(اسد الغابہ ج 3 ص 568) ۲۔(سیر انصارج 2 ص 14ص) ۳۔(اسد الغابہ ج 2 ص 138 139) ۴۔(اسد الغابہ ج اص 305) ۵- (سیر انصارج اص 169،168) ۶۔( ابن سعد ج 8 ص 22) ے۔( بخاری کتاب المغازی باب غزوہ سیف البحر۔۔۔) (ابن سعد ج 3 ص 162) ۹۔(اسد الغابہ ج 5 ص 573 ،574) ۱۰ ( ترمذی ابواب الجنائز باب ما جاء فی الوصیة فی الثلث والربع) ۱۱۔( ابوداؤ د کتاب الوصایا باب ما جاء فی مالا یجوز للموصى في ماله ) ۱۲۔(اسد الغابہ ج 2 ص 479،475) ۱۴۔(اصابہ ج 3 ص 430) ۱۔(اسد الغابہ ج 3 ص 379)۔(فتح الباری ج ص ) ۱۵۔(اسد الغابہ ج 3 ص 378،377) کا۔(اسد الغابہ ج 3 ص 379) ۱۸۔( بخاری کتاب الاجاره باب هل يواجر الرجل نفسه من مشرک) ۱۹۔(اسد الغابہ ج 3 ص235،234) ۲۰۔(ابن سعد ج 3 ص 100) ۱۳ - ( فتح الباری ج 7 ص 24) ۲۲۔(ابن سعد ج 1 ص 122) ۲۴۔(استیعاب ج 3 ص 157) ۲۳۔( ابن سعد ج 1 ص 137) ۲۵۔(مستدرک حاکم ج 3 ص 103) ۲۶۔(اسد الغابہ ج 6 زیر لفظ خنسا) 23 مسلم نوجوانوں کے کارنامے شوق جہاد فی سبیل اللہ 24 حضرت سعد الاسود کے متعلق دوسری جگہ بتایا جا چکا ہے کہ انہیں حصول رشتہ میں سخت مشکلات پیش آئی تھیں۔اور آخر آنحضرت ﷺ کی تجویز پر حضرت عمرو بن وہب کی لڑکی نے آپ کے ساتھ رشتہ منظور کر لیا تھا۔ہر شخص با آسانی اندازہ کر سکتا ہے کہ ایک ہمہ صفت موصوف پاکباز لڑکی کے ساتھ اس قدر تگ و دو اور کوشش کے بعد رشتہ میں کامیابی ان کے لیے کس قدر مسرت کا موجب ہوئی ہوگی۔اور کس طرح ان کا دل امنگوں اور آرزوؤں سے لبریز ہوگا۔تقریب رخصتانہ کی تعمیل کے سلسلہ میں آپ بیوی کے لیے بازار سے تحائف خریدنے کے لیے نکلے۔اور عین اس وقت کہ آپ نہایت خوش آئند خواب کو پورا ہوتا دیکھنے کے سامان فراہم کرنے میں مصروف تھے۔منادی کی آواز سنی جو کہہ رہا تھا کہ یا خیل الله ار کبی و با لجنة البشرى_یعنی اے خدا تعالی کے سپاہیو! جہاد کے لیے سوار ہو جاؤ اور جنت کی بشارت پاؤ۔اس آواز کا کان میں پڑنا تھا کہ تمام ولولے سرد پڑے گئے جہاد کا جوش رگوں میں دوڑ نے لگا۔اور نوعروس کے ساتھ شادی کا خیال ہی دل سے نکل گیا۔اسی روپیہ سے تحائف کی بجائے تلوار، نیزہ اور گھوڑا خرید کیا۔سر پر عمامہ باندھا اور مہاجرین کے لشکر میں جا کر شامل ہو گئے۔وہاں سے میدان جنگ میں پہنچے اور داد شجاعت دینے لگے۔ایک موقعہ پر گھوڑا کچھ اڑا تو نیچے اتر آئے اور پا پیادہ تیغ زنی کرنے لگے۔حتی کہ درجہ شہادت پایا اور نو عروس سے ہم آغوش ہونے کی بجائے عروس تیغ سے ہمکنار ہوئے۔آنحضرت ﷺ کو خبر ہوئی تو لاش پر تشریف لے گئے۔آپ کا سرگود میں رکھ لیا۔اور دعا فرمائی اور تمام سامان مرحوم کی بیوی کے پاس بھجوا دیا۔یہ واقعہ کسی حاشیہ آرائی یا تبصرہ کا محتاج نہیں۔وہ نوجوان جو دین کے لیے بلائے جانے پر عذر تراشتے اور بہانے تلاش کرتے ہیں انہیں اس پر غور کرنا چاہیے۔2 حضرت عکرمہ بن ابی جہل کے جہادی کارناموں سے تاریخ کے اوراق مزین ہیں۔شام پر www۔alislam۔org