مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 84
168 مسلم نوجوانوں کے کارنامے 167 مسلم نوجوانوں کے رنامے آنحضرت ﷺ نے جب مدینہ کی طرف ہجرت کا ارادہ فرمایا تو یہ وہ وقت تھا جب مشرکین نے بھی یہ دیکھ کر کہ مسلمان ایک ایک دو دو کر کے مکہ سے نکلتے جارہے ہیں یہ فیصلہ کیا کہ آنحضرت ﷺ کا کام تمام کر دیا جائے۔چنانچہ جس شب آپ نے مکہ کو چھوڑنا تھا وہ مسلح ہو کر آپ کے مکان کے اردگرد پہرہ دینے لگے۔آنحضرت ﷺ نے اس خیال سے کہ کفار کو شک نہ ہو حضرت علی کو اپنے بستر پر سونے کا ارشاد فرمایا۔چنانچہ حضرت علی نے اپنی جان کے خوف سے بے نیاز ہو کر اس خدمت کو قبول کیا اور عین اس وقت جب کفار کی تلواروں کی جھنکار مکان سے باہر صاف سنائی دے رہی تھی حضرت علی نہایت اطمینان کے ساتھ آپ کے بستر پر لیٹے رہے۔اور کفار کو چونکہ آپکے اندر ہونے کا یقین تھا اس لیے انہوں نے دوسری طرف توجہ نہ کی۔اور آنحضرت ﷺ کو مکہ سے نکل جانے کا موقعہ مل گیا۔صبح کے وقت جب ان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو بہت برہم ہوئے مگر اب کیا ہوسکتا تھا۔5- بہادری اور جرات کے واقعات صرف مردوں تک ہی محدود نہیں بلکہ عورتوں میں بھی یہ وصف ہمیں نمایاں نظر آتا ہے۔غزوہ خندق کے موقعہ پر آنحضرت ﷺ نے تمام مسلمان خواتین کو ایک قلعہ میں محفوظ کر دیا تھا اور وہاں حضرت حسان کی ڈیوٹی لگادی تھی۔ایک دفعہ ایک یہودی قلعہ پرحملہ کی راہ تلاش کرتا ہوا اس کے پھاٹک پر پہنچا۔حضرت صفیہ نے اسے دیکھا تو حضرت حسان سے کہا کہ اسے قتل کر دیں۔ورنہ یہ جا کر اپنے ساتھیوں کو اطلاع دے گا۔جس سے حملہ کا خطرہ ہے۔لیکن حضرت حسان کی طبیعت ایک بیماری کی وجہ سے ایسی ہوگئی تھی کہ خونریزی کو دیکھ بھی نہ سکتے تھے۔چہ جائیکہ اس میں خود کوئی حصہ لے سکیں اس لیے انہوں نے معذوری کا اظہار کیا۔اور یہودی کے بہ سلامت واپس چلے جانے کی صورت میں چونکہ سخت خطرہ کا احتمال تھا اس لیے حضرت صفیہ خود آگے بڑھیں۔خیمہ کی ایک چوب اکھیڑی اور قلعہ سے اتر کر اس زور سے یہودی کے سر پر ماری کہ وہ بد بخت وہیں ڈھیر ہو گیا۔اس کے بعد حضرت صفیہ نے اس کا سرکاٹ کر قلعہ سے نیچے پھینک دیا تا کہ یہودیوں پر رعب طاری ہو جائے۔چنانچہ اس کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہوا اور یہودیوں نے سمجھ لیا کہ قلعہ میں بھی ضر ور فوج موجود ہے اور اس وجہ سے انہیں قلعہ پر حملہ کی جرات نہ ہوئی۔6- حضرت ام سلیم غزوہ حنین میں ایک خنجر ہاتھ میں لیے پھر رہی تھیں۔حضرت ابوطلحہ نے آنحضرت ﷺ کو اس سے مطلع کیا۔حضور نے فرمایا کہ خنجر کیوں پکڑے ہوئے ہو۔تو انہوں نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ ﷺہ اگر کوئی مشرک قریب آئے گا تو اس کا پیٹ چاک کر دوں گی۔آنحضرت ﷺ یہ جواب سن کر مسکرائے۔7۔ایرانیوں کے ساتھ جنگوں کے دوران میں ایک مرتبہ مسلمانوں نے ایک مقام انبار پر محاصرہ کیا۔جس کا حاکم شیرزاد نامی ایک ایرانی سردار تھا۔اس نے شہر کی فصیل کے باہر مٹی کا ایک دیدمہ تیار کر لیا تھا۔اسلامی لشکر کے سپہ سالار حضرت خالد بن ولید تھے۔جب محاصرہ نے طول کھینچا تو حضرت خالد اپنے جان باز سپاہیوں کو لے کر آگے بڑھے۔رستہ میں خندق حائل تھی اور اس کے دوسری جانب ایرانیوں نے تیروں کی بارش شروع کر رکھی تھی۔خندق کو عبور کرنے کے لیے حضرت خالد نے حکم دیا کہ کمزور اور دبلے اونٹ ذبح کر کے اس میں ڈال دیے جائیں اور اور اس طرح ایک قسم کا پل بنالیا گیا۔باقی رہا تیروں کی بارش سویدان سرفروشوں کے لیے کوئی درخور اعتناء چیز نہ تھی۔دشمن اپنا کام کر رہے تھے اور یہ اپنا۔وہ تیر برسا رہے تھے اور یہ آگے بڑھتے جارہے تھے۔مسلمان مجاہدین کو تیروں نے جس قدر نقصان پہنچایا اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ ایک ہزار کی آنکھیں بے کار ہوگئیں۔مگر یہ برابر بڑھتے گئے حتی کہ پہلے دمدمہ پر قبضہ کر لیا اور پھر فصیل پر پہنچ گئے۔ایرانیوں نے سخت مزاحمت کی لیکن جو لوگ اس طرح موت سے کھیلتے ہوئے یہاں پہنچے تھے وہ کسی مزاحمت کو کب خاطر میں لاتے تھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہیں فتح ہوئی اور وہ فاتحانہ شان کے ساتھ شہر میں داخل ہوئے۔www۔alislam۔org