مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 74 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 74

مسلم نوجوانوں کے سنہ ی کارنامے شوق تبلیغ 147 صحابہ کرام نے سرور کائنات ﷺ سے جو روحانی خزانہ حاصل کیا تھا۔اس کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے ہمیشہ بے تاب و بے قرار رہتے تھے۔اور اس راہ میں تکلیف کی کوئی پرواہ نہ کرتے تھے۔آنحضرت ﷺ نے جب دعوئی رسالت کیا تو حضرت عبداللہ بن مسعود ا بھی کم سن تھے اور بکریاں چرایا کرتے تھے۔ایک دفعہ آنحضرت یہ حضرت ابوبکر کے ساتھ اس طرف جا نکلے جہاں آپ بکریاں چرا رہے تھے۔حضرت ابو بکر نے ان سے کہا کہ لڑکے اگر تمہارے پاس دودھ ہو تو پلاؤ۔مگر حضرت عبداللہ نے جواب دیا کہ یہ بکریاں کسی کی ہیں اس لیے میں آپ کو دودھ نہیں پلا سکتا۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔اگر کوئی ایسی بکری ہو جس نے ابھی بچہ نہ جنا ہو تو اسے لاؤ۔حضرت عبداللہ ایک بکری لے آئے۔آپ نے اس کے تھنوں پر ہاتھ پھیر کر دعا مانگی تو اتنا دودھ اتر آیا کہ تینوں نے سیر ہو کر پیا۔یہ معجزہ دیکھ کر حضرت عبداللہ کے دل پر اس قدراثر ہوا کہ اسلام قبول کر لیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب مسلمان نہایت کمزور حالت میں تھے۔حتی کہ علانیہ عبادت الہی بھی نہ کر سکتے تھے۔ایک روز مسلمانوں نے جمع ہو کر مشورہ کیا کہ قریش کو قرآن کریم سنایا جائے لیکن یہ کام اس قدر مشکل تھا کہ اس کو سرانجام دینا سخت خطرناک تھا۔حضرت عبداللہ بن مسعود نے اس خدمت کے لیے اپنے آپ کو پیش کیا۔لیکن دوسرے صحابہ نے کہا کہ آپ اس کام کے لیے موزوں نہیں ہیں۔کوئی ایسا شخص چاہیے جس کا خاندان وسیع ہو تا کہ اس پر حملہ کرنے میں قریش کو کچھ تو تامل ہو۔مگر حضرت عبداللہ نے کہا کہ نہیں مجھے جانے دو۔میرا خدا میرا محافظ ہے۔چنانچہ اگلے روز جب قریش کی مجلس لگی ہوئی تھی یہ شمع قرآنی کا پروانہ وہاں جا پہنچا اور تلاوت قرآن کریم شروع کر دی۔یہ دیکھ کر تمام مجمع مشتعل ہو گیا اور سب کے سب آپ پر ٹوٹ پڑے اور اس قدر مارا کہ چہرہ متورم ہو گیا۔لیکن پھر آپ کی زبان بند نہ ہوئی اس سے فارغ ہو کر مسلم نوجوانوں کے کارنامـ 148 جب صحابہ میں واپس آئے تو آپکی حالت نہایت خستہ ہو رہی تھی۔صحابہ نے کہا کہ ہم اس ڈر کی وجہ سے تمہیں جانے سے روکتے تھے۔مگر حضرت عبداللہ نے کہا کہ خدا کی قسم اگر تم کہو تو کل پھر جا کر اسی طرح کروں گا۔دشمنان خدا آج سے زیادہ مجھے کبھی ذلیل نظر نہیں آئے۔2 شوق تبلیغ صرف مردوں تک ہی محدود نہ تھا بلکہ عورتیں بھی اس ضمن میں اپنے فرض کو پورے احساس کے ساتھ ادا کرتی تھیں۔ام شریک ایک صحابیہ تھیں جو مخفی طور پر قریش کی عورتوں میں جا کر تبلیغ کیا کرتی تھیں۔حالانکہ یہ وہ زمانہ تھا کہ اسلام کا نام بھی زبان پر لانا خطرناک تھا۔قریش کو ان کی تبلیغی مساعی کا علم ہوا تو مکہ سے نکال دیا۔حضرت عکرمہ بن ابی جہل فتح مکہ کے بعد بھاگ کر یمن چلے گئے تھے لیکن ان کی بیوی ام حکیم بنت الحارث مسلمان ہو گئیں اور اس نعمت سے متمع ہونے کے بعد اپنے خاوند کو بھی اس میں شریک کرنے کے لیے اس قدر بے تاب ہوئیں کہ صعوبات سفر برداشت کر کے یمن پہنچیں، اپنے خاوند کو تبلیغ کی اور مسلمان بنا کر واپس لائیں۔-4 حضرل ابو طلحہ ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے کہ ایک مسلمہ حضرت ام سلیم کے ساتھ نکاح کے خواہاں ہوئے۔ان کو پیغام بھیجا تو انہوں نے کہا کہ میرا نکاح تم سے نہیں ہوسکتا جب تک تم اسلام نہ قبول کرو۔ہاں اگر مسلمان ہو جاؤ تو میں بخوشی نکاح کرلوں گی اور میرا مہر بھی صرف تمہارا قبول اسلام ہی ہوگا۔اس کے سوا تم سے کچھ نہ مانگوں گی۔چنانچہ وہ مسلمان ہو گئے۔حضرت ابو ذر غفاری نہایت ابتدائی زمانہ میں اسلام لائے تھے۔مکہ میں ان کا کوئی حامی اور مددگار نہ تھا۔لیکن تبلیغ اسلام کا جوش اس قدر تھا کہ تمام خطرات سے بے نیاز ہو کر خانہ کعبہ میں آئے اور با آواز بلند اشہد ان الا الہ الا اللہ واشھد ان محمد رسول اللہ کہا۔کفاء کی مجلس لگی ہوئی تھی۔یہ آواز سنتے ہی ان پر ٹوٹ پڑے اور جو کچھ کسی کے ہاتھ میں آیا دے مارا۔حتی کہ آپ بے ہوش کر گر پڑے۔ہوش آیا تو تمام بدن خون آلود تھا۔اس وقت تو وہاں سے اٹھ کر چلے گئے لیکن اگلے روز پھر اسی طرح آکر اسلام کا پیغام پہنچانے لگے اور کفار www۔alislam۔org